ربط ہے جانِ محمدؐ سے مری جاں کو مدام — Page 49
ربط ہے جان محمد سے مری جاں کو مدام قط 9 انداز نشست میں عمومیت انبیاء علیہم السلام کے مزاج اور فطرت میں نمود و نمائش کی خواہش نہیں ہوتی۔وہ اللہ تبارک تعالی کے آستانے پر جھکا رہنا پسند کرتے ہیں اور ایمان یہ ہوتا ہے کہ تمام تر عزت و عظمت اللہ تعالٰی کے لئے ہے۔وہ اہل دنیا کی مدح و ثنا کو بے حقیقت سمجھتے ہیں۔حقیقی تعریف وہ ہوتی ہے جو اللہ پاک کے دربار سے ملے۔وہ فنا فی اللہ ہوتے ہیں ہوائے نفس قریب بھی نہیں آتی۔ذات نفسانیت انانیت کو کچل کر ہی دربار الہی میں رسائی ہوتی ہے۔پھر اللہ تعالیٰ کی طرف سے جو عزت ملتی ہے وہ آسمان اور زمین کی وسعتوں پر حاوی اور لازوال ہوتی ہے۔انبیائے کرام ایک ہی منبع نور سے فیضیاب ہوتے ہیں۔آنحضور سراج منیر ہیں اور بدر منیر آپ کے انوار منعکس کرتا ہے۔اسی لئے دونوں کی ادائیں مماثل ہیں۔شاگرد نے جو پایا استاد کی دولت ہے احمد کو محمد تم کیسے جدا سمجھے حضرت صوفی عبد الرزاق کاشانی رحمہ اللہ تعالیٰ نے کیا خوب فرمایا ہے: تمام انبیائے گزشتہ علوم و معارف میں امام موعود کے تابع ہوں گے اس لئے کہ امام موعود کا باطن دراصل محمد مصطفی کا باطن ہے“ آنحضور کی سیرت و سوانح کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ اپنے لئے کوئی خصوصی اہتمام پسند نہ فرماتے۔آنحضرت اور حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ ہجرت کے بعد مدینہ تشریف لائے تو پہلے مدینہ کی نواحی بستی قباء میں قیام فرمایا۔مدینہ کے لوگ فرط اشتیاق سے جوق در جوق آپ کے دیدار کے لئے حاضر ہوئے انہوں نے آپ کو پہلے دیکھا نہیں ہوا تھا۔محفل میں سردار دو جہاں کے لئے کوئی مخصوص شاندار نشست اور کوئی معین ترتیب نہیں تھی۔حضرت ابو بکر عمر میں آپ سے چھوٹے ہونے کے باوجود بال سفید ہونے کی وجہ سے نسبتابڑے دکھائی دے رہے تھے۔وہ حضرت ابو بکر کو ہی رسول اللہ سمجھتے رہے۔سورج بلند ہوا دھوپ نکلی تو حضرت ابو بکر نے اپنی چادر سے آنحضور پر سایہ کیا۔“ (بخاری باب الهجرت) 49