ربط ہے جانِ محمدؐ سے مری جاں کو مدام — Page 50
ربط ہے جان محمد سے مری جاں کو مدام تعظیم کے اس انداز سے لو گوں کی غلط فہمی دور ہوئی۔آپ نے کبھی بھی اپنے لیے کوئی امتیازی نشان، وضع قطع، لباس اور نشست پسند نہیں فرمائی حتی کہ ایک محفل میں داخل ہونے پر احتراماً کھڑے ہونے سے بھی منع فرمایا۔”میرے لیے اس طرح نہ کھڑے ہوا کرو جس طرح عجمی کھڑے ہوتے ہیں“ (سنن ابی داؤد کتاب الادب باب الرجل يقوم للرجل يعظمه بذالك ) آپ نے فرمایا یہ تو ایرانیوں کا رواج ہے میں بادشاہ نہیں بلکہ خدا تعالیٰ نے مجھے نبی بنایا ہے۔(تفسیر کبیر جلد 20 صفحہ 348) حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کی سیرت و سوانح میں بھی اپنی ذات کے لئے کوئی امتیاز نہیں ملتا۔جب سے یہ نور ملا نور پیمبر سے ہمیں ذات سے حق کی وجود اپنا ملایا ہم نے مصطفی پر ترا بے حد ہو سلام اور رحمت اُس سے یہ نور لیا بار خدایا ہم نے نشست کے انداز میں عمومیت کا ایک واقعہ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کے ڈیرہ بابانا نک کے دورے میں پیش آیا۔حضرت ڈاکٹر میر محمد اسمعیل کی تحریر ملاحظہ کیجئے: ”حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام مع چند خدام کے بابا صاحب کا چولہ دیکھنے کے لئے ڈیرہ بابا نانک تشریف لے گئے تو وہاں ایک بڑ کے درخت کے نیچے کچھ کپڑے بچھا کر جماعت کے لوگ مع حضور کے بیٹھ گئے مولوی محمد احسن صاحب بھی ہمراہ تھے۔گاؤں کے لوگ حضور کی آمد کی خبر سن کر وہاں جمع ہونے لگے تو ان میں سے چند آدمی جو پہلے آئے تھے مولوی محمد احسن سے مصافحہ کر کر کے بیٹھتے گئے تین چار آدمیوں کے مصافحہ کے بعد یہ محسوس کیا گیا کہ ان کو دھو کا ہوا ہے اس کے بعد مولوی محمد احسن صاحب ہر ایسے شخص کو جو ان سے مصافحہ کرتا حضرت اقدس مسیح موعود کی طرف متوجہ کردیتے کہ حضرت اقدس مسیح موعود یہ ہیں۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ بعض اوقات آنحضور کی مجلس میں بھی ایسا دھو کا لگ جاتا تھا دراصل چونکہ انبیاء کی مجلس بالکل سادہ اور ہر قسم کے تکلفات سے پاک ہوتی ہے اور سب لوگ محبت کے ساتھ باہم ملے جلے بیٹھے رہتے ہیں اور نبی کے لئے کوئی خاص شان یا مسند وغیرہ کی 50