ربط ہے جانِ محمدؐ سے مری جاں کو مدام

by Other Authors

Page 47 of 426

ربط ہے جانِ محمدؐ سے مری جاں کو مدام — Page 47

ربط ہے جان محمد سے مری جاں کو مدام کی رضا کو مقدم رکھتے ہیں اور ہمیشہ اسی کی رضا کے خواہاں رہتے ہیں اور ہر حال میں شکر گزار رہتے ہیں۔وہ شخص رقیق القلب، صاف طبع، حلیم، کریم اور جامع الخیرات، دنیوی لذات سے بہت دور، بھلائی اور نیکی کے کسی موقع کو ضائع نہ کرنے والا۔وہ پسند کرتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے دین کی خاطر اپنا خون پانی کی طرح بہا دیں اور اپنی جان اس راہ میں قربان کر دیں اور دین میں فتنوں کا قلع قمع کرنے کے لئے اپنا آپ قربان کر دیں۔“ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام نے تحریر فرمایا: (حمامة البشری، روحانی خزائن جلد 7 صفحہ 180) مولوی حکیم نوردین صاحب اپنے اخلاص اور محبت اور صفت ایثار اور اللہ شجاعت اور سخاوت اور ہمدردی اسلام میں عجیب شان رکھتے ہیں کثرت مال کے ساتھ کچھ قدر قلیل خدا تعالیٰ کی راہ میں دیتے ہوئے تو بہتوں کو دیکھا مگر خود بھوکے پیاسے رہ کر اپنا عزیز مال رضائے مولیٰ میں اُٹھا دینا اور اپنے لئے دنیا میں سے کچھ نہ بنانا یہ صفت کامل طور پر مولوی صاحب موصوف میں ہی دیکھی۔یا ان میں جن کے دلوں پر ان کی صحبت کا اثر ہے اور جس قدر ان کے مال سے مجھ کو مدد پہنچی ہے۔اس کی نظیر اب تک کوئی میرے پاس نہیں۔۔۔خدائے تعالیٰ اس خصلت اور ہمت کے آدمی اس امت میں زیادہ سے زیادہ کرے۔آمین ثم آمین۔چه خوش بو دے اگر ہر یک زامت نور دین بودے ہمیں بودے اگر ہر دل پر از نور یقین بودے ایک اور مقام پر حضرت اقدس فرماتے ہیں: نشان آسمانی روحانی خزائن جلد 4 صفحہ 430 - 434) ان کے مال سے جس قدر مجھے مدد پہنچی ہے میں کوئی ایسی نظیر نہیں دیکھتا جو اس کے مقابل پر بیان کر سکوں۔میں نے ان کو طبعی طور پر اور نہایت انشراح صدر سے دینی خدمتوں میں جان نثار پایا۔اگر چہ ان کی روز مرہ زندگی اسی راہ میں وقف ہے کہ وہ ہر ایک پہلو سے اسلام اور مسلمانوں کے سچے خادم ہیں مگر اس سلسلہ کے ناصرین میں سے وہ اول درجہ کے نکلے میں یقیناد یکھتا ہوں کہ جب تک وہ نسبت پیدا نہ ہو۔جو محب کو اپنے محبوب سے ہوتی ہے۔تب تک ایسا انشراح صدر کسی میں پیدا نہیں ہو سکتا۔ان کو خدائے تعالیٰ نے اپنے قوی ہاتھوں سے اپنی طرف کھینچ لیا ہے اور طاقت بالا نے خارق عادت اثر ان پر کیا ہے۔انہوں نے ایسے وقت میں بلا تردد مجھے قبول کیا کہ جب ہر طرف سے تکفیر کی صدائیں بلند ہونے کو تھیں اور بہتیروں نے 47