ربط ہے جانِ محمدؐ سے مری جاں کو مدام — Page 46
ربط ہے جان محمد سے مری جاں کو مدام نبض کی حرکت تنفس کی حرکت کی پیروی کرتی ہے۔“ (ترجمه از عربی عبارت مندرجہ آئینہ کمالات اسلام روحانی خزائن جلد 5 صفحہ 581 تا 586) حضرت حکیم الامت مولانا نور الدین خلیفہ المسیح اول اللہ تعالیٰ کا انتخاب تھے اللہ تعالیٰ نے آپ کا ایک نام عبد الباسط رکھا تھا۔(تذکره الهام 13 فروری 1887ء صفحہ 117) ایک مرتبہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے خواب میں دیکھا کہ میں ایک نشیب گڑھے میں کھڑا ہوں اور اوپر چڑھنا چاہتا ہوں مگر ہاتھ نہیں پہنچتا۔اتنے میں ایک بندہ خدا آیا اُس نے اُوپر سے میری طرف ہاتھ لمبا کیا اور میں اُس کے ہاتھ کو پکڑ کر اوپر کو چڑھ گیا اور میں نے چڑھتے ہی کہا کہ خدا تجھے اس خدمت کا بدلہ دیوے۔آج آپ کا خط پڑھنے کے ساتھ میرے دل میں پختہ طور پر یہ جم گیا کہ وہ ہاتھ پکڑنے والا جس سے رفع ترد ہوا آپ ہی ہیں کیونکہ جیسا کہ میں نے خواب میں ہاتھ پکڑنے والے کے لئے دعا کی ایسا ہی برقت قلب خط کے پڑھنے سے آپ کے لئے منہ سے دلی دعا نکل گئی۔مستجاب إِنْ شَاءَ اللہ تعالیٰ۔( تذکرہ صفحہ 117 ایڈیشن دوم) حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اور متعدد مقامات پر اپنے مرید با صفا، عالم باعمل حاجی الحرمین حافظ علامہ نور الدین کے متعلق تعریف و توصیف کے الفاظ استعمال فرمائے۔موصوف بھی اپنی فدائیت میں ترقی کرتے چلے گئے اور حضرت مسیح موعود کی خلافت کے عظیم منصب پر فائز ہوئے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام اپنے اس ناصر دین کا بہت محبت سے ذکر فرماتے۔چند اقتباس ملاحظہ ہوں: (عربی سے ترجمہ) ”میرے سب دوست متقی ہیں ان میں سب سے زیادہ صاحب بصیرت، صاحب علم، اکمل الایمان والاسلام، محبت، معرفت، خشیت اور یقین اثبات والا بزرگ فرد متقی عالم، صالح، فقیہ، عظیم الشان محدث و ماہر طبیب، حکیم حاجی الحرمین، حافظ قرآن، قریشی فاروقی جس کا اسم گرامی حکیم نور الدین بھیروی ہے۔اللہ تعالیٰ اسے دین و دنیا میں اجر عظیم سے نوازے۔صدق و صفاء اخلاص و محبت اور وفاداری میں میرے سب مریدوں سے وہ اوّل نمبر پر ہے اور ایثار و انقطاع اور خدمت دین میں عجیب حال میں ہیں۔اس نے خدمت دین میں بہت خرچ کیا ہے اور میں نے انہیں ایسا مخلص پایا ہے جو اولاد و ازواج پر اللہ تعالیٰ 46