ربط ہے جانِ محمدؐ سے مری جاں کو مدام

by Other Authors

Page 390 of 426

ربط ہے جانِ محمدؐ سے مری جاں کو مدام — Page 390

قسط 47 محبت سب کے لئے نفرت کسی سے نہیں محبت، نرمی، رفق، لطافت، بردباری ،آسانی ،سهولت نفع پہنچانا، ملائمت در گزر کرنا، معاف کرنا، بخش دینا، بھلائی سوچنا اور احسان کرنا اللہ تعالیٰ کو پسند ہے اللہ تعالیٰ بھی ایسے نرم خو سے بخشش کا سلوک فرماتا ہے۔بے جا غصہ، درشتی، نفرت اور سختی کرنا ناپسندیدہ امور ہیں۔رب العالمین جو رحیم ہے رؤف ہے رفیق اور حلیم ہے۔بندوں سے بلا تفریق نرم سلوک کرتا ہے۔ایسی ہی صفات سے سب انبیاء اور سب سے بڑھ کر حضرت نبی کریم صلی علیم کو متصف فرمایا۔آپ صلیا کی سب بڑوں، چھوٹوں، امیروں، غریبوں، اجنبی، آشنا سے ہمدردی اور پیار سے بات کرتے۔آپ صلی نیلم کے فرائض منصبی میں پیغام توحید عام کرنا تھا۔آپ صلی علیم کے شیریں لہجے کی کشش سے لوگ آپ صلی کمی کی طرف مائل ہوتے جیسا کہ قرآن پاک میں ارشاد ہے: پس اللہ کی خاص رحمت کی وجہ سے تو ان کے لئے نرم ہو گیا اور اگر تُو تندخو (اور) سخت دل ہوتا تو وہ ضرور تیرے گرد سے دُور بھاگ جاتے۔پس ان سے در گزر کر اور ان کے لئے بخشش کی دعا کر اور (ہر) اہم معاملہ میں ان سے مشورہ کر۔پس جب تو (کوئی) فیصلہ کر لے تو پھر اللہ ہی پر تو کل کر۔یقیناً اللہ تو کل کرنے والوں سے محبت رکھتا ہے۔نیز آپ صلیم کو حسن سلوک کے وہ گر بتائے جس سے دشمن بھی دوست ہو جائیں: (آل عمران: 160) نہ اچھائی برائی کے برابر ہو سکتی ہے اور نہ برائی اچھائی کے (برابر )۔ایسی چیز سے دفاع کر کہ جو بہترین ہو۔تب ایسا شخص جس کے اور تیرے درمیان دشمنی تھی وہ گویا اچانک ایک جاں نثار دوست بن جائے گا۔(تم سجدہ: 35) مکہ کے بڑو پیکر محسوس کو اپنا خالق و مالک سمجھنے کے خوگر تھے اُن کو ان دیکھے خدائے واحد پر ایمان لانے کا درس دینا آسان کام نہ تھا کسی گزرگاہ میں، کسی بازار میں، کسی دوستوں کی محفل میں، کہیں کچھ لوگ اکٹھے دیکھ کر۔آپ صلی ل کر نرمی سے بات کا آغاز فرماتے: کیا آپ لوگ میری کچھ باتیں سن سکتے 390