ربط ہے جانِ محمدؐ سے مری جاں کو مدام — Page 385
قرار دی۔فرماتے ہیں: ربط ہے جان محمد سے مری جاں کو مدام تیسری شاخ اس کارخانہ کی واردین اور صادرین اور حق کی تلاش کے لئے سفر کرنے والے اور دیگر اغراض متفرقہ سے آنیوالے ہیں جو اس آسمانی کار خانہ کی خبر پا کر اپنی اپنی نیتوں کی تحریک سے ملاقات کے لئے آتے رہتے ہیں۔یہ شاخ بھی برابر نشوونما میں ہے۔اگرچہ بعض دنوں میں کچھ کم مگر بعض دنوں میں نہایت سر گرمی سے اس کا سلسلہ شروع ہو جاتا ہے۔چنانچہ ان سات برسوں میں ساٹھ 60 ہزار سے کچھ زیادہ مہمان آئے ہوں گے اور جس قدر اُن میں سے مستعد لوگوں کو تقریری ذریعوں سے روحانی فائدہ پہنچایا گیا اور اُن کے مشکلات حل کر دئے گئے۔“ فتح اسلام، روحانی خزائن جلد 3 صفحہ 14) مہمانوں کے لئے آپ علیہ السلام کے دل اور دروازہ کھلا رہتا۔احباب کو قادیان جلدی جلدی آنے اور آکر زیادہ عرصہ ٹھہرنے کی ترغیب دیتے۔اپنے الدار میں یا قریب ترین ٹھہرانا پسند فرماتے تھے۔جانتے تھے کہ قریب آنے سے مہمانوں کو آپ علیہ السلام کے قلب مطہر کی روشنی سے حصہ ملے گا۔خدا نمائی کا یہ ذریعہ مخلوق کی بھلائی کے لئے استعمال فرمایا۔اللہ تعالیٰ نے آپ علیہ السلام کو مہمانوں کی کثرت سے آمد کی اطلاع کے ساتھ ان کے ساتھ حسن سلوک کا درس دیا تھا: ترجمہ۔میں تجھے اپنی طرف اٹھاؤں گا اور میں اپنی طرف سے محبت تیرے پر ڈالوں گا یعنی بعد اس کے کہ لوگ دشمنی اور بغض کریں گے یک دفعہ محبت کی طرف لوٹائے جائیں گے جیسا کہ یہی مہدی موعود کے نشانوں میں سے ہے اور پھر فرمایا کہ جو لوگ تیرے پر ایمان لائیں گے ان کو خوشخبری دے کہ وہ اپنے رب کے نزدیک قدم صدق رکھتے ہیں اور جو میں تیرے پر وحی نازل کرتا ہوں تو ان کو سنا۔خلق اللہ سے منہ مت پھیر اور ان کی ملاقات سے مت تھک اور اس کے بعد الہام ہوا۔وشع مکانک یعنی اپنے مکان کو وسیع کرلے۔اس پیشگوئی میں صاف فرما دیا کہ وہ دن آتا ہے کہ ملاقات کرنیوالوں کا بہت ہجوم ہو جائے گا یہاں تک کہ ہر ایک کا تجھ سے ملنا مشکل ہو جائے گا پس تو اس وقت ملال ظاہر نہ کرنا اور لوگوں کی ملاقات سے تھک نہ جانا۔قادیان آنے والوں کے رتبہ بلند کے بارے میں فرمایا: (سراج منیر، روحانی خزائن جلد 12 صفحہ 73) ”خدا تعالیٰ نے انہی اصحاب الصفہ کو تمام جماعت میں سے پسند کیا ہے اور جو شخص سب کچھ چھوڑ کر اس 385