ربط ہے جانِ محمدؐ سے مری جاں کو مدام

by Other Authors

Page 382 of 426

ربط ہے جانِ محمدؐ سے مری جاں کو مدام — Page 382

ربط ہے جان محمد سے مری جاں کو مدام اسلام کا آغاز ہوا تو نوواردان پیارے آقاصلی ال نیلم کے ذاتی مہمان ہوتے۔گھر کی خواتین جو کچھ میسر ہو تا پیش کر دیتیں۔اگر مہمان زیادہ ہوتے تو اپنے اصحاب کو تحریک فرماتے کہ مہمان کو ساتھ لے جائیں اور خدمت کریں۔مکہ مدینہ کا رہن سہن اور ماحول ہمارے آج کے زمانے سے بہت مختلف تھا۔عام لوگ محنت مزدوری کر کے بمشکل گزر اوقات کرتے۔زندگی سادہ تھی۔آسائشیں کم تھیں۔مہمانوں کے لئے کوئی الگ انتظام نہیں ہو تا تھا۔آپ صلی الیکم نے اپنے متبعین کی اس طرح تربیت فرمائی کہ وہ اپنی ضرورت کو پس پشت ڈال کر ایثار اور قربانی سے دوسروں کا خیال رکھتے۔ہمارے آقا حضرت محمد رسول الله صلى الله علم انسانی نفسیات پر گہری نظر رکھتے تھے۔ضرورتمند کو چہرے سے پہچان لیتے اور اسے احساس دلائے بغیر ضرورت پوری کرنے کا انتظام فرماتے۔آپ صلی نیلم نے مہمانوں کے خوش دلی سے استقبال کی تلقین فرمائی۔ماحضر بغیر یہ دریافت کئے کہ آپ کو کھانا چاہئے؟ وقت پر پیش کرنے کی تاکید فرمائی۔مہمان کے ساتھ آخر تک کھانے میں شریک رہنے کو پسند فرمایا تا کہ اسے کسی قسم کی خجالت و ندامت نہ ہو کہ وہ اکیلا کھا رہا ہے۔(ابن ماجه کتاب الاطعمة باب النهى ان يقام عن الطعام: 3285) آپ کی سی ایم نے مہمان کو الوداع کرتے ہوئے مہمان کی عزت کی خاطر اس کے ساتھ گھر کے دروازے تک جانے کا اعلیٰ نمونہ دکھایا۔ابن ماجه کتاب الاطعمة باب الضيافة: 3349) مہمان نوازی میں کسی صلہ یا ستائش کی لالچ رکھنے سے منع فرمایا۔یہ کارخیر صرف رضائے الہی کی خاطر ہو نیز تکلفات اور دکھاوے کو ناپسند فرمایا۔الله ہو۔میز بانوں کے ساتھ آپ صلی الی یکم نے مہمانوں کو بھی آداب سکھائے۔آپ صلی الم نے ارشاد فرمایا ہے کہ پر تکلف مہمان نوازی ایک دن رات ہے جبکہ عمومی مہمان نوازی تین دن تک ہے اور تین دن سے زائد صدقہ مہمان کے لئے یہ جائز نہیں کہ وہ اتنا عرصہ میزبان کے پاس ٹھہرا رہے کہ جو اس کو تکلیف میں ہے۔ڈال دے۔الله (بخاری کتاب الادب باب اکرام الضيف ) مہمان کو چاہئے کہ میزبان کا شکر گزار ہو کر دعا دے آپ صلی ا یکم جب انصار میں سے کسی کے ہاں مہمان جاتے تو آپ کی یہ کام کا معمول تھا کہ آپ کیا کام کھانا وغیرہ تناول فرما کر واپس جانے سے پہلے وہاں دو رکعت نماز نفل ادا فرماتے یا موقع کی مناسبت سے اہل خانہ کے لئے اور ان کے رزق میں برکت کے لئے خاص صلى اليوم 382