ربط ہے جانِ محمدؐ سے مری جاں کو مدام — Page 381
ربط ہے جان محمد سے مری جاں کو مدام قسط 46 اکرام ضيف اے اللہ! تو محمد لی لی پر اور محمدعلی اہل علم کی آل پر درود اور برکتیں بھیج جیسا کہ تو نے حضرت ابراہیم علیہ پر السلام اور ابراہیم علیہ السلام کی آل پر درود اور برکتیں بھیجیں۔یقیناً تو حمید اور مجید ہے۔اللہ تعالیٰ نے آنحضور صلی لی عوام کو حضرت ابراہیم علیہ السلام جیسی صفات اور برکات عطا فرمائیں بلکہ ان سے بھی بڑھ کر خلق عظیم پر قائم فرمایا۔حضرت ابراہیم علیہ السلام کی مہمان نوازی اللہ تعالیٰ کو پسند آئی اسے قرآن کریم میں محفوظ کرلیا۔”اور یقیناً ابراہیم کے پاس ہمارے بھیجے ہوئے خوشخبری لے کر آئے۔انہوں نے سلام کہا۔اس نے بھی کہا سلام اور ذرا دیر نہ کی کہ ان کے پاس ایک بُھنا ہوا بچھڑا لے آیا۔“ (ہود: 70) المدرسة آنحضرت صلی اللہ علم میں بھی یہ خُلق بدرجہ اتم موجود و معروف تھا جب پہلی دفعہ وحی نازل ہونے پر آپ کی نیلم سخت گھبرائے ہوئے گھر تشریف لائے تو حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا نے تسلی دیتے ہوئے آپ کی لی کیم کی جن صفات کا ذکر کیا ان میں آپ مالی الم کی مہمان نوازی بھی شامل تھی۔(بخاری کتاب التفسير سورة اقرأ باسم ربک۔۔۔حدیث نمبر 4953) دین اسلام میں جیسے مہمان نوازی اور حقوق العباد کا خیال رکھنے کا درس دیا گیا ہے اور کسی مذہب میں نہیں ملتا اور بانی اسلام حضرت محمد عربی صلی الیکم فرماتے ہیں: "جو شخص اللہ تعالیٰ اور یوم آخرت پر ایمان لاتا ہے تو اسے چاہئے کہ مہمان کی تکریم کرے۔“ (بخاری کتاب الادب باب اکرام الضيف و خدمته اياه بنفسه حدیث 6135) قرآن پاک میں مسافروں کے لئے اہنِ الشمینیل کا لفظ آیا ہے اور ان پر مال خرچ کرنے اور ان کا حق دینے کی تاکید ہے۔آپ صلی الم نے مامور من اللہ کی حیثیت سے تالیف قلوب اور دعوت الی اللہ کے لئے مہمان نوازی کا آغاز ایک بڑی دعوت سے کیا۔پہلی دفعہ خاطر خواہ نتیجہ نہ نکلا تو دوسری دعوت کا اہتمام کیا۔جس کے نتیجہ میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کی صورت میں پھل ملا۔381