ربط ہے جانِ محمدؐ سے مری جاں کو مدام — Page 361
فرما رہے تھے تو ایک پڑوس کی بکری آگئی اور جو روٹی میں نے آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے پکا کر رکھی ہوئی تھی وہ اُٹھا کر چل پڑی۔میں اُس کے پیچھے بھاگی تا کہ اس کو مار کے بھگا دوں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ دیکھو پڑوسی کو اس کی بکری کی وجہ سے تکلیف نہ پہنچاؤ جو لے گئی ہے لے جانے دو۔الادب مفرد ترمذی لایو دی جارہ حدیث (120) حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص پڑوسی کی شکایت لے کر آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا۔آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو فرمایا جا صبر کر یہ شخص دو یا تین بار حضور صلی علیم کی خدمت میں شکایت لے کر آیا تو پھر آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اُس کو فرمایا کہ جا اور اپنا مال و متاع باہر رکھ دے یعنی اپنے گھر کا سامان سڑک پر لے آ۔چنانچہ اس نے اپنا مال رستے میں رکھ دیا اس پر لو گوں نے اس کے بارے میں پوچھا کہ تم اس طرح کیوں کر رہے ہو تو ان کو بتاتا رہا کہ کس وجہ سے ہو رہا ہے۔تب لو گوں نے ہمسایہ پر لعنت ملامت کی اور کہنے لگے اللہ اسے یوں کرے وغیرہ وغیرہ اس پر اس کا ہمسایہ اس کے پاس آیا اور کہنے لگا تو اپنے گھر میں واپس چلا جا اب تو مجھ سے کوئی ناپسندیدہ بات نہیں دیکھے گا۔ترمذی کتاب الزهد باب مثل الدنيا رابعة نفر ) ایک دفعہ ایک شخص نے عرض کیا کہ اے اللہ کے رسول! میرے کچھ رشتہ دار ہیں۔میں ان سے تعلق جوڑتا ہوں وہ توڑتے ہیں۔میں احسان کرتا ہوں وہ بد سلو کی کرتے ہیں۔میرے نرمی اور حلم کے سلوک کا جواب وہ زیادتی اور جہالت سے دیتے ہیں۔نبی کریم صلی ال لیلی نے فرمایا اگر وہ ایسا ہی کرتے ہیں جیسا تم نے بیان کیا تو تم گویا ان کے منہ پر خاک ڈال رہے ہو (یعنی ان پر احسان کر کے ان کو ایسا شرمسار کر کے رکھ دیا ہے کہ وہ منہ دکھانے کے قابل نہیں رہے) اور اللہ کی طرف سے تمہارے لئے ایک مددگار فرشتہ اس وقت تک مقرر رہے گا جب تک تم اپنے حسن سلوک کے اس نمونہ پر قائم رہوگے۔(مسند احمد جلد 2 صفحہ 300 مطبوعہ بیروت) آنحضور صلی اللہ نیلم کے نزدیک حق ہمسائیگی یہ ہے کہ ہمسایہ کے لیے دکھ اور تکلیف کا موجب نہ بنیں ہمسایہ کے ساتھ حسن سلوک کیا جائے اس کی جان، مال، عزت اور آبرو کی حفاظت کی جائے۔گھر میں کوئی عمدہ چیز پکائی جائے تو ہمسایہ کو بھی بھجوائی جائے۔تحائف بھجوائیں جس سے آپس کی محبت بڑھتی ہے۔ہر 361