ربط ہے جانِ محمدؐ سے مری جاں کو مدام

by Other Authors

Page 360 of 426

ربط ہے جانِ محمدؐ سے مری جاں کو مدام — Page 360

ربط ہے جان محمد سے مری جاں کو مدام الله صلى وسلم نے ارشاد فرمایا: وہ جنت میں ہے۔(مسند احمد)۔حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی الم نے ارشاد فرمایا: قیامت کے دن (جھگڑنے والوں میں) سب سے پہلے دو جھگڑنے والے پڑوسی پیش ہوں گے (یعنی بندوں کے حقوق میں سے سب سے پہلا معاملہ دو پڑوسیوں کا پیش ہو گا)۔(مسند احمد ، مجمع الزوائد)۔حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک صحابی رضی اللہ عنہ نے رسول کریم صلی ا للعلم سے پوچھا اے اللہ کے رسول، مجھے کیسے معلوم ہوگا کہ میں نے نیکی کی ہے یا برائی؟ رسول کریم ملی ای نیم نے فرمایا: جب تم سنو کہ تمہارے پڑوسی کہہ رہے ہیں کہ تم نے اچھا کام کیا ہے تو واقعی تم نے اچھا کام کیا ہے اور جب تم ان سے سنو کہ وہ کہہ رہے ہیں کہ تم نے غلط کام کیا ہے تو واقعی تم نے غلط کام کیا ہے۔پڑوسیوں سے حسن سلوک میں آپ کا اسوہ حسنہ (ابن ماجه ) صلی اللہ علیہ وسلم کے پڑوسی انتہائی ضرر رساں، بد خواہ بلکہ جان کے دشمن تھے۔مگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی نہ برا بھلا کہا نہ انتقام لیا بلکہ خیر خواہی کی۔مکی دور میں ابو لہب اور عقبہ بن ابی معیط حضور صلی این نیم کے پڑوسی تھے جو آپ کے دونوں طرف آباد تھے اور انہوں نے شرارتوں کی انتہا کی ہوتی تھی۔یہ لوگ بیرونی مخالفت کے علاوہ گھر میں بھی ایذا پہنچانے سے باز نہ آتے تھے اور اذیت دینے کے لیے غلاظت کے ڈھیر حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے دروازے پر ڈال دیتے۔حضور صلی اللہ علیہ وسلم جب باہر نکلتے تو خود اس غلاظت کو راستے سے ہٹاتے اور صرف اتنا فرماتے: ”اے عبد مناف کے بیٹو! یہ تم کیا کر رہے ہو کیا یہی حق ہمسائیگی ہے۔66 (طبقات ابن سعد جلد 1 صفحہ 201 بیروت 1960ء) حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم ایک دفعہ میرے پاس استراحت 360