ربط ہے جانِ محمدؐ سے مری جاں کو مدام

by Other Authors

Page 35 of 426

ربط ہے جانِ محمدؐ سے مری جاں کو مدام — Page 35

اس پر چشمہ کے اندر اتنا پانی بھر آیا کہ سب نے اپنی اپنی ضرورت کے لئے استعمال کیا اور پانی کی تکلیف جاتی رہی۔اللہ تعالیٰ نے مزید فضل یہ فرمایا کہ اسی رات یا اس کے قریب بارش بھی ہو گئی۔چنانچہ جب صبح کی نماز کے لئے آنحضرت صلی الم نے صحابہ سے مسکراتے ہوئے فرمایا ” کیا تم جانتے ہو کہ اس بارش کے موقع پر تمہارے خدا نے کیا ارشاد فرمایا ہے؟“ صحابہ رضی اللہ عنہم نے حسب عادت عرض کیا کہ خدا اور اس کا رسول ہی بہتر جانتے ہیں۔آپؐ نے فرمایا ”خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ میرے بندوں میں سے بعض نے تو یہ صبح حقیقی ایمان کی حالت میں کی ہے مگر بعض کفر کی حالت میں پڑ کر ڈگمگاگئے۔کیونکہ جس بندے نے تو یہ کہا کہ ہم پر خدا کے فضل ورحم سے بارش ہوئی ہے وہ تو ایمان کی حقیقت پر قائم رہا مگر جس نے یہ کہا کہ یہ بارش فلاں فلاں ستارے کے اثر کے ماتحت ہوئی ہے تو وہ بیشک چاند سورج کا تو مومن ہو گیا، لیکن خدا کا اس نے کفر کیا۔“ اس ارشاد سے جو توحید کی دولت سے معمور ہے آنحضرت صلی اہل علم نے صحابہ ی کویہ سبق دیا کہ بے شک سلسلہ اسباب و علل کے ماتحت خدا نے اس کارخانہ عالم کو چلانے کے لئے مختلف قسم کے اسباب مقرر فرما رکھے ہیں اور بارشوں وغیرہ کے معاملہ میں اجرام سماوی کے اثر سے انکار نہیں مگر حقیقی توحید یہ ہے کہ باوجود درمیانی اسباب کے انسان کی نظر اس وراء الوراء ہستی کی طرف سے غافل نہ ہو جو ان سب اسباب کی پیدا کرنے والی اور اس کارخانہ عالم کی علت العلل ہے اور جس کے بغیر یہ ظاہری اسباب ایک مردہ کپڑے سے زیادہ حیثیت نہیں رکھتے۔(سیرت خاتم النبيين صفحہ 844 - 845) ایک دفعہ مدینہ اور اس کے گرد نواح میں دیر تک بارش نہ ہونے کی وجہ سے قحط کے آثار پیدا ہونے لگے جس پر صحابہ رضی اللہ عنہم نے آنحضرت صلی للی علم کی خدمت میں حاضر ہو کر اپنی تکلیف بیان کی اور درخواست کی کہ ان کے لئے بارش کی دعا فرمائی جائے اس پر آپ صحابہ کی ایک جماعت کو ساتھ لے کر مصلی یعنی عید گاہ میں تشریف لے گئے اور وہاں قبلہ رخ ہو کر بارش کے لئے دعا فرمائی اور اس کے بعد خدا کے فضل سے بہت جلد بارش ہو گئی۔اس کے بعد اسلام میں استسقاء کی نماز کا باقاعدہ آغاز ہو گیا۔اس نماز کی یہ خصوصیت ہے کہ اس میں عام نمازوں کی طرح امام مقتدیوں کے آگے تو کھڑا ہوتا ہے مگر قولی دعا کے علاوہ جس میں انسانوں اور جانوروں کی تکلیف کا ذکر کر کے خدا سے بارش کی التجا کی جاتی ہے امام ایک چادر کے کونے پکڑ کر اسے اپنی پیٹھ پر ڈالتا ہے اور پھر اسے اس طرح الٹا دیتا ہے کہ چاروں کونے بدل جاتے ہیں۔جو گویا زبان حال سے اس بات کی استدعا ہوتی ہے کہ خدایا! ہم پر یہ سختی کے دن پوری طرح بدل جائیں اور تیری وہ رحمت جو ہر چیز کے پیچھے مخفی ہوتی ہے تکلیف کے ظاہری پہلوؤں کو کلی طور پر دبا 35