ربط ہے جانِ محمدؐ سے مری جاں کو مدام

by Other Authors

Page 34 of 426

ربط ہے جانِ محمدؐ سے مری جاں کو مدام — Page 34

ربط ہے جان محمد سے مری جاں کو مدام کے بھائی قحط سالی سے مجبور ہو کر اس نشان کے بعد بالآخر اُن پر ایمان لے آئے تھے اس طرح میری قوم کو بھی میرے پاس لے آ۔چنانچہ یہ دعا قبول ہوئی اور مشرکین مکہ کو ایک شدید قحط نے آ گھیر۔یہاں تک کہ ان کو ہڈیاں اور مردار کھانے کی نوبت آئی۔تب مجبور ہو کر ابو سفیان آپ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا کہ ”اے محملی للی کرم ہے آپ کی تو صلہ رحمی کا حکم دیتے ہیں۔آپ کی قوم اب ہلاک ہو رہی ہے آپ اللہ سے ہمارے حق میں دعا کریں ( کہ قحط سالی دور فرمائے) اور بارشیں نازل ہوں ورنہ آپ کی قوم تباہ ہو جائے گی“ رسول کریم صلی علی نیلم نے ابو سفیان کو احساس دلانے کے لئے صرف اتنا کہا کہ تم بڑے دلیر اور حوصلہ والے ہو جو قریش کی نافرمانی کے باوجود ان کے حق میں دعا چاہتے ہو۔مگر دعا کرنے سے انکار نہیں کیا کیونکہ اس رحمت مجسم کو اپنی قوم کی ہلاکت ہر گز منظور نہ تھی۔پھر لو گوں نے دیکھا کہ اسی وقت آپ کے ہاتھ دعا کے لئے اٹھ گئے اور اپنے مولا سے قحط سالی دور ہونے اور باران رحمت کے نزول کی یہ دعا بھی خوب مقبول ہوئی۔اس قدر بارش ہوئی کہ قریش کی فراخی اور آرام کے دن لوٹ آئے۔مگر ساتھ ہی وہ انکار و مخالفت میں بھی تیز ہو گئے۔آپ کے چچا ابو طالب نے کیا خوب کہا تھا: بخاری کتاب التفسير سورة الروم والدخان ) وَابْيَضُ يُسْتَسْقَى الغَمَامُ بِوَجْهِهِ تمالُ الْيَتَامَى عِصْمَةٌ لِلاَرَامِلِ محمد (صلی ) کے روشن چہرے کا واسطہ دے کر بارش مانگی جائے تو بادل برس پڑتے ہیں آپ کی یی) یتیموں کے والی اور بیواؤں کے محافظ ہیں۔صلح حدیبیہ سے پہلے کی بات ہے ابھی آپ اپنے ساتھیوں کے ساتھ سفر میں تھے کہ ایک جگہ ایک چشمہ کے پاس اونٹنی سے اتر آئے۔ابھی زیادہ وقت نہیں گزرا تھا کہ صحابہ رضی اللہ عنہم کی ایک پارٹی آپ کی خدمت میں حاضر ہوئی اور عرض کیا کہ چشمہ کا پانی ختم ہو کر خشک ہو گیا ہے اوراب انسان اور جانور سخت تکلیف میں ہیں۔اس کے لئے کیا کیا جائے؟ آپ نے ایک تیر لیا اور حکم دیا کہ اس تیر کو خشک شدہ چشمہ کی تہ میں نصب کر دیا جائے اور آپ خود چشمہ کے کنارے پر تشریف لا کر وہاں بیٹھ گئے اور تھوڑا سا پانی لے کر اسے اپنے منہ میں ڈالا اور پھر خدا سے دعا کرتے ہوئے یہ پانی اپنے منہ سے چشمہ کے اندر انڈیل دیا اور صحابہ رضی اللہ عنہم سے فرمایا کہ اب تھوڑی دیر انتظار کرو۔چنانچہ ابھی زیادہ وقت نہیں گزرا تھا کہ 34