ربط ہے جانِ محمدؐ سے مری جاں کو مدام — Page 341
ربط ہے جان محمد سے مری جاں کو مدام تو قدرتی طور پر سنجیدہ تھے کچھ حالات نے خاموش رہنا سکھا دیا آپ ایک مؤدب بچے تھے۔حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ نے اس زمانے کا بڑا پیارا نقشہ کھینچا ہے فرماتے ہیں: ابو طالب بعض دفعہ اپنے بچوں کے سامنے کہتے کہ ”یہ میرا بچہ ہے“ رات کو عموماً اپنے ساتھ سلاتے تھے یہی کوشش رہتی کہ حضرت محمدصلی اللہ ہم ہر وقت آپ کی آنکھوں کے آگے رہیں۔کبھی کسی کام کے لئے باہر جاتے تو آکر تسلی کرتے کہ آپ بھوکے تو نہیں رہے۔آپ کی بچی بھی آپ پر سختی نہیں کرتی تھیں۔دراصل آپ اتنی پیاری اداؤں کے مالک تھے کہ سختی کی ضرورت ہی پیش نہ آتی تھی۔۔۔آپ کے چچا کے گھر میں جب کھانا تقسیم ہوتا تھا تو آپ کبھی بڑھ کر مانگا نہیں کرتے تھے۔باقی بچے لڑ جھگڑ کر مانگتے مگر رسول کریم صلی ال نامی ایک طرف خاموش کھڑے رہتے اور جب آپ کی پیچی آپ کو کچھ دیتی تو آپ لے لیتے خود مانگ کر نہیں لیتے تھے۔۔۔بعض دفعہ ابو طالب جب گھر میں آتے اور وہ رسول کریم کی تعلیم کو عام بچوں سے الگ ایک طرف کھڑے دیکھتے اور یہ بھی دیکھتے کہ باقی بچے شور کر رہے ہیں اور لڑ جھگڑ کر چیزیں لے رہے ہیں۔مثلاً مٹھائی تقسیم ہو رہی ہے تو ایک کہتا میں مٹھائی کی ایک ڈلی نہیں دو ڈلیاں لوں گا۔دوسرا کہتا ہے اماں مجھے تو تو نے کچھ بھی نہیں دیا اسی طرح ہر بچہ اپنا حق جتا کر چیز کا مطالبہ کر رہا ہے اور رسول کریم ملی ایم ایک کونے میں خاموش بیٹھے ہوئے ہیں تو ابو طالب ان کو بازو سے پکڑ لیتے اور کہتے میرے بچے تو یہاں کیوں خاموش بیٹھا ہے۔پھر وہ آپ کو لا کر اپنی بیوی کے پاس کے پاس کھڑا کر دیتے اور کہتے، تو بھی اپنی بچی سے چمٹ جا اور اس سے مانگ۔مگر رسول کریم صلی للی کم نہ چمٹتے اور نہ کچھ مانگتے۔رسول صلی ال نیلم کی یہ حالت دراصل ان ہی جذبات کا نتیجہ تھی کہ آپ سمجھتے تھے میرا اس گھر پر کوئی حق نہیں اور جو کچھ مجھے ملتا ہے بطور احسان ملتا ہے۔“ الله (تفسیر کبیر جلد ہفتم صفحہ 255 - 256) لکھنے پڑھنے کی عمر میں دنیاوی استادوں کا سہارا لینا پڑتا ہے اللہ پاک نے آپ کو اپنی گود میں مثل طفل شیر خوار لے کر سارے علوم سکھا دیے۔آپ کی حیات طیبہ کا کوئی گوشہ تاریخ کی نظر سے اوجھل نہیں رہا۔طبعی نیکی اور خدائی تربیت کی روشنی آپ کے افعال و اقوال سے جھلکتی ہے۔نو عمری سے علیحد گی پسند تھے۔چند دوست تھے جن کا تعلق اعلیٰ خاندانوں سے تھا مثلاً عبد اللہ بن ابی قحافہ (حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ) حکیم بن حزام، زید بن عمر و زمانہ جاہلیت میں بھی مشرک نہ تھے دین ابراہیمی پر قائم تھے۔آپ ہمیشہ عرب سوسائٹی کی گندی رسوم سے مجتنب رہے۔مشرکانہ رسوم سے بلکلی پرہیز کیا۔حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے آپ کا ایک قول مروی ہے فرماتے تھے کہ:۔341