ربط ہے جانِ محمدؐ سے مری جاں کو مدام

by Other Authors

Page 330 of 426

ربط ہے جانِ محمدؐ سے مری جاں کو مدام — Page 330

تھا کہ اس کے پیچھے لشکر چھپ سکے۔لیکن آپ کی راست گفتاری پر سب کو اتنا اعتبار تھا کہ بلا تردد بیک زبان بولے کہ ہاں ہم مان لیں گے۔کیونکہ ہم نے آپ کو کبھی جھوٹ بولتے نہیں دیکھا۔اس گواہی کے بعد جب آپ نے وحدانیت کا پیغام دیا تو وہ مخالفت کے درپے ہو گئے۔بخاری کتاب التفسير سورة اللهب ) اللہ تعالیٰ نے آپ کو ایک دلیل سکھائی جو ماموروں اور فرستادوں کی سچائی یعنی صداقت شعاری کا ثبوت ہوتی ہے اور کوئی بھی غور و فکر کرنے والا اس سے انکار نہیں کر سکتا۔فرمایا: فَقَدْ لَبِثْتُ فِيْكُمْ عُمُرًا مِنْ قَبْلِهِ أَفَلَا تَعْقِلُونَ ) (یونس: 17) اس سے پہلے میں تمہارے درمیان عمر کا ایک حصہ گزار چکا ہوں، کیا تم عقل سے کام نہیں لیتے۔میں تو حق کی طرف بلانے پر مامور کیا گیا ہوں۔جو شخص بچپن اور جوانی میں انسانوں سے جھوٹ نہیں بولتا وہ بڑی عمر میں خدا پر جھوٹ کیسے بول سکتا ہے؟ اپنے قول و فعل سے صداقت شعار کی کی چوٹی پر بیٹھ کر دعوتِ عام دیتے: يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللهَ وَكُونُوا مَعَ الصَّدِقِينَ ) ۱۱۹ اے وہ لوگو جو ایمان لائے ہو! اللہ کا تقویٰ اختیار کرو اور صادقوں کے ساتھ ہو جاؤ۔(توبہ: 119) وہ جو حق پسند تھے صرف آپ کی پیشانی پر حق و صداقت کا نور اور آپ کا کردار دیکھ کر ایمان لے آتے جیسے کہ صدیق اکبر حضرت ابو بکر نے حق پہچان لیا۔حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی نیلم کے بچپن کے دوست تھے۔انہوں نے جب آپ کے دعوی کے بارہ میں سنا تو آپ کے اصرار کے باوجود کوئی دلیل نہیں کیو نکہ زندگی بھر کا مشاہدہ یہی تھا کہ آپ پاکباز اور سچے ہیں۔چاہی دلائل النبوة للبيهقى جلد 2 صفحه 164 دار الكتب العلمیہ بیروت) آپ کی دعوت پر حق قبول کرنے والا ہر مؤمن اس بات کا گواہ ٹھہرا کہ ہم آپ کو صادق مانتے ہیں۔ایک دفعہ حق و صداقت کو پہچان کر آپ کے ہاتھ میں ہاتھ دے کر پھر جس طرح مصائب برداشت کر کے 330