ربط ہے جانِ محمدؐ سے مری جاں کو مدام — Page 33
ربط ہے جان محمد سے مری جاں کو مدام قسط 6 دعا سے بارانِ رحمت حضرت محمد مصطفی صلی اللی ایم کے بابرکت وجود کے ساتھ آسمان سے روحانی پانی کی موسلا دھار بارش ہونے لگی۔اسی طرح آپ کی برکت سے زمین کو بھی پانی ملنے لگا۔اللہ تعالیٰ سے عشق تھا۔جو بھی خیر اس کی طرف سے آتی خوشی سے خیر مقدم فرماتے۔بارش کو اللہ تعالیٰ کی رحمت قرار دیتے۔موسم گرما کی عام بارش سے خوش ہوتے اور اسے بڑے شوق سے سر پر لے کر فرماتے۔”میرے رب کی طرف سے یہ تازہ رحمت آئی ہے“ (مسند احمد جلد 6 صفحہ 129) ایک دوسری روایت ہے ”جب سال کی پہلی بارش ہوتی تو رسول اللہ صلی ال ل ل لم اسے ننگے سر پر لیتے اور فرماتے ہمارے رب سے یہ تازہ نعمت آئی ہے اور سب سے زیادہ برکت والی ہے۔(کنز العمال حدیث نمبر 4939) بارش جہاں اللہ کی رحمت یاد دلاتی وہاں اس کا خوف بھی پیدا کرتی۔حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی کریم کی ملی یکم جب بادل یا آندھی کے آثار دیکھتے تو آپ کا چہرہ متغیر ہو جاتا۔میں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول! لوگ تو بادل دیکھ کر خوش ہوتے ہیں کہ بارش ہو گی۔مگر میں دیکھتی ہوں کہ آپ بادل دیکھ کر پریشان ہو جاتے ہیں۔آپ نے فرمایا اے عائشہ! کیا پتہ اس آندھی میں کوئی ایسا عذاب پوشیدہ ہو جس سے ایک گزشتہ قوم ہلاک ہو گئی تھی اور ایک قوم (عاد) ایسی گزری ہے جس نے عذاب دیکھ کر کہا تھا کہ یہ تو بادل ہے۔برس کر چھٹ جائے گا۔مگر وہی بادل اُن پر درد ناک عذاب بن کر برسا۔(بخاری کتاب التفسير سورة الاحقاف باب قوله فلما ر ا وہ عارضا مستقبل او ديتهم ) مشرکین مکہ کو خواب غفلت سے بیدار کرنے کے لئے آپ نے مولا کریم سے دعا کی: ے میرے مولا! ان مشرکین مکہ کے مقابلہ پر میری مدد کسی ایسے قحط سے فرما جس طرح حضرت یوسف علیہ السلام کی مدد تو نے قحط سالی کے ذریعہ فرمائی تھی۔“ اس دعا میں رحمت و شفقت کا یہ عجیب رنگ غالب تھا کہ ان کو قحط سے ہلاک نہ کرنا بلکہ جس طرح یوسف 33