ربط ہے جانِ محمدؐ سے مری جاں کو مدام — Page 325
ربط ہے جان محمد سے مری جاں کو مدام رکتے نہیں ہیں ظالم گالی سے ایک دم بھی ان کا تو شغل و پیشہ صبح و مسا یہی ہے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی ان تحریرات میں اگر سخت الفاظ آئے ہیں تو ان کا مخاطب چند دریدہ دہن مولوی تھے مثلاً محمد بخش جعفر زٹلی، شیخ محمد حسین بٹالوی، سعد اللہ لدھیانوی، عبدالحق امر تسری جو آپ کو نہایت فخش اور ننگی گالیاں دیتے تھے۔ان کے علاوہ کچھ پادری تھے اور آریہ سماج سے تعلق رکھنے والے گستاخ تھے۔اس کی تفصیل " کتاب البریہ “ اور ”کشف الغطاء “ میں موجود ہے۔غیرت کا تقاضا تھا کہ الزامی جواب دے کر ان کا منہ بند کیا جاتا۔دیگر مسلمان علماء کی بہت سی مثالیں ہیں جن میں بہت سخت زبان استعمال کی گئی ہے لیکن آپ نے وہ انداز اختیار کیا جو قرآن پاک کی تعلیم کے عین مطابق تھا۔نیک نام علما کے لئے بھی سخت الفاظ استعمال نہیں کئے۔۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے برملا فرمایا: مخالفوں کے مقابل پر تحریری مباحثات میں کسی قدر میرے الفاظ میں سختی استعمال میں آئی تھی لیکن وہ ابتدائی طور پر سختی نہیں ہے۔بلکہ وہ تمام تحریریں نہایت سخت حملوں کے جواب میں لکھی گئی ہیں مخالفوں کے الفاظ ایسے سخت اور دشنام دہی کے رنگ میں تھے۔جن کے مقابل پر کسی قدر سختی مصلحت تھی۔یہ بات بالکل سچ ہے کہ اگر سخت الفاظ کے مقابل پر دوسری قوم کی طرف سے کچھ سخت الفاظ استعمال نہ ہوں تو ممکن ہے اس قوم کے جاہلوں کا غیظ و غضب کوئی اور راہ اختیار کر لے۔مظلوموں کے بخارات نکلنے کے لئے یہ ایک حکمت عملی ہے کہ وہ بھی مباحثات میں سخت حملوں کا سخت جواب دیں۔“ حضرت مسیح موعود فرماتے ہیں کہ: 66 (کتاب البریہ، روحانی خزائن جلد 13 صفحہ 11 - 12) جماعت کو نصائح یہ مجھے گالیاں دیتے ہیں لیکن میں ان کی گالیوں کی پرواہ نہیں کرتا اور نہ ان پر افسوس کرتا ہوں کیونکہ وہ اس مقابلہ سے عاجز آ گئے ہیں اور اپنی عاجزی اور فرومائینگی کو بجز اس کے نہیں چھپا سکتے کہ گالیاں دیں۔کفر کے فتوے لگائیں۔جھوٹے مقدمات بنائیں اور قسم قسم کے افترا اور بہتان لگائیں۔وہ اپنی ساری طاقتوں کو کام میں لا کر میرا مقابلہ کر لیں اور دیکھ لیں کہ آخری فیصلہ کس کے حق میں ہوتا ہے۔میں 325