ربط ہے جانِ محمدؐ سے مری جاں کو مدام — Page 321
ربط ہے جان محمد سے مری جاں کو مدام کئے۔کہتے ہیں وہ نظارہ اس وقت بھی میرے سامنے ہے۔آپ منہ پر ہاتھ رکھے ہوئے تھے، جیسا کہ اکثر آپ کا معمول تھا کہ پگڑی کے شملے کا ایک حصہ منہ پر رکھ لیا کرتے تھے۔پگڑی کا حصہ منہ پر رکھ دیا کرتے تھے یا بعض اوقات صرف ہاتھ رکھ کر بیٹھ جایا کرتے تھے۔خاموش بیٹھے رہے، اس کی گالیاں سنتے رہے اور وہ شورہ پشت بکتا رہا۔فسادی طبیعت کا آدمی بولتا رہا۔آپ اسی طرح پر مست اور مگن بیٹھے تھے کہ گویا کچھ ہو ہی نہیں رہا یا کوئی نہایت ہی شیریں مقال گفتگو کر رہا ہے۔اس ہندو لیڈر نے اسے منع کرنا چاہا مگر اس نے پرواہ نہ کی۔حضرت نے ان کو فرمایا کہ آپ اسے کچھ نہ کہیں، کہنے دیجئے۔آخر وہ خود ہی بکواس کر کے تھک گیا اور اٹھ کر چلا گیا۔برہمو لیڈر بے حد متاثر ہوا اور اس نے کہا کہ یہ آپ کا بہت بڑا اخلاقی معجزہ ہے۔اس وقت حضور اسے چپ کرا سکتے تھے۔اپنے مکان سے نکلوا سکتے تھے بکواس کرنے پر آپ کے ایک ادنی اشارہ سے اس کی زبان کائی جا سکتی تھی۔مگر آپ نے اپنے کامل حلم اور ضبطِ نفس کا عملی ثبوت دیا۔“ (سیرت حضرت مسیح موعود علیه السلام مصنفہ شیخ یعقوب علی عرفانی صفحہ 443 - 444) اور ”ایک مرتبہ 1898ء میں مولوی محمد حسین صاحب نے اپنا ایک گالیوں کا بھرا ہوا رسالہ حضور علیہ السلام کو بھیجا آپ علیہ السلام نے اس کے جواب میں پورے حلم اور حوصلہ اور صبر و تحمل کا اظہار کیا۔آپ کے سکونِ خاطر اور کوہ وقاری کو کوئی چیز جنبش نہ دے سکتی تھی۔بڑی پر سکون طبیعت تھی۔بڑی باوقار طبیعت تھی۔یعنی اس طرح کہ جس طرح پہاڑ ہو۔گویا کہ وہ ایک عظیم شخصیت تھے۔وقار کا ایک پہاڑ تھے اور یہ ثبوت تھا اس امر کا کہ کسی قسم کی گالیوں کا آپ پر کوئی اثر نہیں ہوتا تھا۔یعنی کبھی یہ نہیں ہوا کہ بے وقاری دکھاتے ہوئے گالیوں کے جواب میں، گالیوں کا جواب آپ کی طرف سے جائے۔فرماتے ہیں کہ یہ ثبوت تھا اس امر کا کہ خدا تعالیٰ کی وحی جو آپ پر ان الفاظ میں نازل ہوئی تھی کہ فاضر گیا صَبَر اولو الْعَزْمِ مِنَ الرسل (احقاف: 36) فی الحقیقت خدا کی طرف سے تھی اور اسی خدا نے وہ خارق عادت اور فوق الفطرت صبر اور حوصلہ آپ کو عطا فرمایا تھا جو اولوا العزم رسولوں کو دیا جاتا ہے۔(سیرت حضرت مسیح موعود صفحہ 463 - 464) ایک شخص آپ کو رات بھر گالیاں نکالنے پر مقرر کیا گیا تھا جو آپ کے گھر کے سامنے کھڑا ساری ت اونچی اونچی گالیاں نکالتا رہتا۔جب سحری کا وقت ہوتا تو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوة والسلام دادی صاحبہ کو کہتے کہ اب اس کو کھانے کو کچھ دو کہ یہ ساری رات گالیاں نکال نکال کے تھک گیا ہو گا۔اس کا گلا خشک ہو گیا ہو گا۔وہ کہتی ہیں کہ میں حضرت صاحب کو کہتی کہ ایسے کمبخت کو کچھ نہیں 321