ربط ہے جانِ محمدؐ سے مری جاں کو مدام — Page 298
سکیں۔نہیں کیا تھا۔بنتِ رسول کو انتہائی خطرہ تھا۔اس لئے حضور صلی علیم نے ان کو مدینہ بلالیا۔جب یہ اونٹ پر سوار ہو کر مکہ سے روانہ ہوئیں تو کافروں نے ان کا راستہ روک لیا۔ظالم ہبار بن الاسود نے نیزہ مار کر ان کو اونٹ سے زمین پر گرا دیا چوٹ لگنے سے ان کا حمل ساقط ہو گیا یہ دیکھ کر ان کے دیور کنانہ کو طیش آ گیا اور اس نے جنگ کے لیے تیر کمان اٹھا لیا۔مشرکین نے پسپائی اختیار کر لی مگر سیدہ زینب ان کے چنگل سے نکل کر ہجرت کی کوشش میں کامیاب نہ ہو۔غزوہ بدر کے قیدیوں میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے داماد ابو العاص بن ربیع بھی تھے اہل مکہ نے جب اپنے اپنے قیدیوں کا فدیہ روانہ کیا تو حضرت زینب نے اپنے شوہر کے فدیہ میں اپنی والدہ حضرت خدیجہ کا شادی کے وقت دیا ہوا ہار بھیجا جو آنحضرت صلی علی کریم نے پہچان لیا اور آبدیدہ ہو کر فرمایا کہ یہ ہار تو خدیجہ کا ہے پھر آپ نے صحابہ سے پوچھا کہ اگر مناسب سمجھو تو یہ ہار اس کو واپس کر دیں اور اس قیدی کو چھوڑ دیں سب نے سر تسلیم خم کرتے ہوئے قیدی کو بھی چھوڑ دیا اور ہار بھی واپس کر دیا۔آپ نے ابوالعاص سے یہ وعدہ لیا کہ مکہ جا کر میری بیٹی زینب کو مدینہ روانہ کر دے گا۔آنحضور اپنی بیٹی کی وجہ سے پریشان رہتے تھے۔ایک دن حضرت زید بن حارثہ سے ارشاد فرمایا کہ کیا تم زینب کو میرے پاس لا سکتے ہو ؟ حضرت زید نے عرض کیا یا رسول اللہ ؟ کیوں نہیں؟ چنانچہ حضور صلی الم نے فرمایا یہ انگوٹھی لے جاؤ اور زینب کو پہنچا دو حضرت زید کمال حکمت سے مکہ گئے اور شہر کے نواح میں پہنچ کر جائزہ لینے لگے۔اس دوران حضرت زید ایک چرواہے سے ملے اور اس سے پوچھا کہ تم کس کے ملازم ہو؟ اس نے بتایا کہ میں ابو العاص کا ملازم ہوں پھر حضرت زید نے پوچھا یہ بکریاں کس کی ہیں اس نے کہا زینب بنت محمد صلی ایم کی۔حضرت زید نے نبی کریم صلی علیم کی انگوٹھی اس چرواہے کے ذریعہ حضرت زینب کو بھجوائی۔انگوٹھی دیکھ کر وہ سمجھ گئیں کہ ان کے باپ کا سندیسہ ہے اگلی رات ابو العاص حضرت زینب کو لے کر نکلے اور یا جج کے مقام پر انہیں حضرت زید کے ساتھ مدینہ روانہ کر کے واپس آگئے حضرت زینب اپنے مقدس والد کے پاس مدینہ پہنچ گئیں۔ابوالعاص نے حسب وعدہ حضرت زینب کو مدینہ منورہ بھیج دیا۔فتح مکہ سے کچھ عرصہ پہلے انہوں نے اسلام قبول کر لیا اور مدینہ تشریف لائے آپ نے ہجرت کے چھ سال بعد حضرت زینب کو ان کی زوجیت میں دے دیا۔آپ کی خدمت میں پہنچ کر سیدہ زینب رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے کفار کی طرف سے پہنچنے والے مظالم کا ذکر فرمایا تو آپ کا دل بھر آیا فرمایا هِيَ أَفْضَلُ بَنَاتِي أُصِيْبَتْ فِي یہ میری بیٹیوں میں اس اعتبار سے بہت فضیلت والی ہے کہ میری طرف ہجرت کرنے میں اتنی بڑی مصیبت 298