ربط ہے جانِ محمدؐ سے مری جاں کو مدام

by Other Authors

Page 287 of 426

ربط ہے جانِ محمدؐ سے مری جاں کو مدام — Page 287

ربط ہے جان محمد سے مری جاں کو مدام مشرکوں کو مسجد نبوی میں ٹھہرایا فتح مکہ کے بعد طائف سے بنو ثقیف کے مشرکین کا ایک وفد آنحضرت صلیا عوام کی خدمت میں حاضر ہوا۔اس کی سربراہی عبد یالیل نامی وہی سردار کر رہا تھا۔جس نے آنحضرت صلی ایم کے سفر طائف کے دوران آپ کو انتہائی دکھ دیا تھا۔اس وفد کے قیام کے لئے حضور صلی ایم نے مسجد نبوی میں خیمے نصب کروائے۔بعض صحابہ نے یہ بھی کہا کہ : آپ ان کو مسجد میں ٹھہراتے ہیں حالا نکہ وہ مشرک ہیں اور مشرک نجس ہوتے ہیں۔آپ نے فرمایا کہ یہ ارشاد الہی دلوں کی گندگی کے لئے ہے اور شرک کی نجاست خدا کی زمین کو ناپاک نہیں کیا کرتی۔اسلام اور غیر مسلم رعایا از ملک سیف الرحمن صفحه 23) فتح مکہ کے بعد دس ہجری میں نجران کے عیسائیوں کا 60 افراد پر مشتمل ایک وفد مدینہ آیا۔دوران گفتگو ان کی نماز کا وقت آگیا۔آنحضرت صلی علیم نے ان کو مسجد میں اپنے طریق کے مطابق عبادت کی اجازت دی۔چنانچہ عیسائیوں نے مسجد نبوی مصلی تیم میں مشرق کی طرف منہ کر کے عبادت کی۔(زرقانی جلد 2 صفحہ 135) دوسروں کے جذبات کے احترام میں مقام کے اظہار میں کمی ایک دفعہ ایک صحابی نے کسی یہودی کے سامنے آنحضرت کی حضرت موسی پر ایسے رنگ میں فضیلت بیان کی جس سے اس یہودی کو صدمہ پہنچا تو آپ نے ہدایت فرمائی کہ ٹھیک ہے میں افضل الانبیاء اور خاتم النبیین ہوں لیکن دوسروں کی دلداری کی خاطر میرے حق کے باوجود لا تخترونى على موسى ( بخاری کتاب التفسیر سوره اعراف) یعنی مجھے موسیٰ پر فضیلت نہ دیا کرو۔عقیدہ کا زبانی اظہار کافی ہے ایک لڑائی میں حضرت اسامہ بن زید نے ایک کافر کو باوجود یہ کہنے کے کہ میں مسلمان ہوتا ہوں، قتل کر دیا۔اس کا جب آپ کے سامنے ذکر ہوا تو آپ حضرت اسامہ پر سخت ناراض ہوئے اور ان کے اس عذر پر کہ وہ شخص دل سے مسلمان نہ ہوا تھا۔آپ نے تکرار سے فرمایا: " کیا تم نے اس کا دل چیر کر دیکھ لیا تھا۔آپ کی ناراضگی اس قدر تھی کہ حضرت اسامہ نے تمنا کی 287