ربط ہے جانِ محمدؐ سے مری جاں کو مدام

by Other Authors

Page 280 of 426

ربط ہے جانِ محمدؐ سے مری جاں کو مدام — Page 280

ربط ہے جانِ محمد سے مری جاں کو مدام کرنے پر بھی گردن مارنے کا ذکر نہیں پھر کفر میں بڑھ جانے پر اللہ کی پکڑ کا ذکر ہے۔بندے کو کہیں مختار نہیں بنایا۔آپ کل عالمین کے لئے رحمت بنائے گئے۔رحمت کی وسعتیں تمام انسانوں تک پھیلی تھیں بنیادی انسانی حق نظر انداز نہیں فرمایا۔قرآنی اصول لَكُمْ دِينُكُمْ وَليَ دِین۔محبت پیار نرمی عفو در گزر اخلاق سے تالیف قلوب کے لئے قرآنی ارشادات اور آپ کے عمل سے کچھ رہنما اصول پیش ہیں: 1- عالمگیر سلامتی کا پیغام آفشوا السلام سلام ( بخاری کتاب الادب ) کو پھیلاؤ۔یعنی سلام کہو ان کو جن کو پہچانتے ہو اور جن کو نہیں بھی پہچانتے۔2۔اللہ کے سوا پکارنے والے کو گالیاں نہ دینا ورنہ وہ دشمنی کرتے ہوئے بغیر علم کے اللہ کو گالیاں دیں گے۔(الانعام: 109) 3۔سارے مذہبی رہنماؤں اور ان کی عبادت گاہوں کا احترام کرنا۔مسلمان ان کی عبادت گاہوں کی حفاظت کریں گے۔ان کا کوئی گرجا گرایا نہیں جائے گا۔نہ ہی کسی بشپ یا کسی پادری کو بے دخل کیا جائے گا اور نہ ہی ان کے حقوق میں کوئی تبدیلی یا کمی بیشی ہو گی۔نہ انہیں ان کے دین سے ہٹایا جائے گا اور ان پر کوئی ظلم یا زیادتی نہیں ہو گی۔(ابو داؤد کتاب الخراج) 4۔قرآنی ارشاد ہے بھائی چارے کو بڑھاوا دینے کے لئے دوسرے مذاہب کے ساتھ مشترک باتوں پر سمجھوتے کئے جاسکتے ہیں۔ترجمہ: تو کہہ دے اے اہل کتاب! آؤ ایک بات کی طرف جو ہمارے اور تمہارے درمیان برابر ہے۔(ال عمران: 65) 5۔بلا امتیاز عدل و انصاف سے کام لینا۔قرآنی ارشاد ہے، کسی قوم کی دشمنی تمہیں ہر گز اس بات پر آمادہ نہ کرے کہ تم انصاف نہ کرو۔انصاف کرو یہ تقویٰ کے سب سے زیادہ قریب ہے۔(المائده: 9) 280