ربط ہے جانِ محمدؐ سے مری جاں کو مدام — Page 281
ربط ہے جان محمد سے مری جاں کو مدام 6۔اختلاف عقیدہ کے باوجود دوسروں کی خوبیوں کا اعتراف کرنا۔ان اہل کتاب میں سے بعض ایسے ہیں کہ ان کے پاس ڈھیروں ڈھیر مال بھی بطور امانت رکھ دو تو وہ تمہیں واپس کر دیں گے۔(ال عمران: 76) 7۔اختلاف عقیدہ کے باوجود امن کے لئے معاہدے اور ان کی پاسداری کرنا۔اس طرح کمال عدل و انصاف بلکہ حسن و احسان سے پر امن اور خوشگوار تعلقات قائم کرنا۔جیسا کہ قرآن پاک میں ارشاد ہے۔ترجمہ: جنہوں نے تم سے دین کے معاملہ میں قتال نہیں کیا اور نہ تمہیں بے وطن کیا، ان کے ساتھ احسان کرنے اور انصاف کے ساتھ برتاؤ کرنے سے اللہ تمہیں نہیں روکتا (الممتحنة: 9) 8 قیام امن کے لئے امن پسندوں کو اختلاف عقیدہ کے باوجود عند الضرورت پناہ دینا۔قرآن پاک کا ارشاد ہے۔مشر کوں میں سے اگر کوئی تجھ سے پناہ مانگے تو اسے پناہ دے۔(التوبہ: 6) ہمارے آقا و مولیٰ حضرت محمد مصطفی صلی عالی عالم نے ان اصولوں کو اپنا کر مذہبی رواداری کا ایسا شاندار نمونہ دکھایا جو چشم فلک نے پہلے کبھی نہیں دیکھا تھا اور ہمیشہ کے لئے مشعل راہ ہے۔حیات طیبہ سے چند واقعات مشتے از خروارے پیش ہیں۔مہمان نوازی حضرت ابو ہریرہ سے روایت ہے کہ : ایک دفعہ ایک غیر مسلم آنحضرت صلی الم کے ہاں مہمان ہوا۔آپ نے اسے بکری کا دودھ دوہ کر دیا لیکن وہ سیر نہ ہوا۔پھر دوسری بکری کا دودھ پیش کیا پھر بھی اس کی تسلی نہیں ہوئی۔اس پر تیسری، چوتھی یہاں تک کہ وہ سات بکریوں کا دودھ پی گیا۔آپ اُس کی اس حرص مسکرائے لیکن مہمان سے کوئی بات نہ کی۔(ترمذی کتاب الاطعمه ) 281