ربط ہے جانِ محمدؐ سے مری جاں کو مدام — Page 25
۔ربط ہے جان محمد سے مری جاں کو مدام قسط 4 خدا کی قسم وہ نبی ہے آنحضرت صلی لی کام کو اللہ تبارک تعالیٰ نے ام المومنین حضرت ماریہ قبطیہ کے بطن سے آخری عمر میں ذی الحجہ 8 ہجری میں ایک بیٹے ابراہیم سے نوازا۔آپ اپنے بیٹے سے بے حد محبت کرتے تھے بچہ اپنی انا ام سیف کے ہاں مدینے کی نواحی بستی عوالی میں پرورش پارہا تھا۔آپ وہاں تشریف لے جاتے۔بچے کو گود میں لے کر پیار کرتے چومتے۔ام سیف کے شوہر لوہار کا کام کرتے تھے گھر دھوئیں سے بھرا ہوتا مگر بچے کی محبت میں کچے چلے آتے کچھ دیر بچے کے ساتھ رہتے اور رضاعی والدہ کی گود میں دے کر چلے جاتے۔حضرت ابراہیم بہت کم عمر لے کر آئے تھے۔بیمار ہوئے نزع کا عالم تھا آنحضور تشریف لائے بچے کو گود میں اٹھا لیا۔اس کی تکلیف دیکھ کر آنکھوں میں آنسو آگئے حضرت عبد الرحمان بن عوف ساتھ تھے۔عرض کیا یا رسول اللہ ! آپ روتے ہیں؟ فرمایا ”یہ رونا اور یہ آنسو رحمت ہیں“ رسولِ خدا کا یہ لاڈلا بیٹا 19 شوال 10 ہجری صرف سولہ ماہ کی عمر میں وفات پا گیا۔آنحضور صلی ا ہم نے صاحبزادے کی وفات پر انتہائی صبر کا نمونہ دکھایا۔بچے کو دفن کرنے کے لئے قبر میں اترے لاش کو ہاتھوں میں اُٹھا کر لحد میں رکھا اور فرمایا: ”جاؤ اپنے بھائی عثمان بن مظعون کے پاس“ حضرت عثمان ایک صحابی تھے جو آنحضرت صلی علی کریم کو بہت عزیز تھے اور اس واقعہ سے چھ سال پہلے وفات پا چکے تھے۔آپ کو غم کی حالت میں اپنے اس صحابی کی یاد آ گئی۔شیر خوار بچے کو یاد کرتے ہوئے فرمایا: ابراہیم میرا بیٹا تھا وہ حالت شیر خوارگی میں ہی وفات پا گیا اس کے لئے دو انائیں ہیں جو جنت میں اس کی رضاعت کی مدت پوری ہونے تک اسے دودھ پلائیں گی“ (مسلم کتاب الفضائل باب رحمۃ الصبیان حدیث (2) حضرت ابراہیم کو اللہ تعالیٰ نے بڑے مرتبے سے نوازا تھا آپ نے فرمایا: وَاللَّهِ إِنَّهُ لَنَبِيُّ ، (الفتاوى الحديثیه صفحه 671 علامہ ابنِ حجر هیشی مطبوعه مصر 1970ء ) 25