ربط ہے جانِ محمدؐ سے مری جاں کو مدام

by Other Authors

Page 24 of 426

ربط ہے جانِ محمدؐ سے مری جاں کو مدام — Page 24

ربط ہے جان محمد سے مری جاں کو مدام اور حضرت صاحب اپنی گفتگو میں لگے رہے مگر پھر اس کے بدن پر ایک سخت لرزہ آیا اور اس کی زبان سے بھی کچھ خوف کی آواز نکلی مگر وہ پھر سنبھل گیا۔مگر تھوڑی دیر کے بعد اس نے ایک چیخ ماری اور بے تحاشا مسجد سے بھاگ نکلا اور بغیر جوتا پہنے نیچے بھاگتا ہوا اتر گیا۔اس کے ساتھی اور دوسرے لوگ اس کے پیچھے بھاگے اور اس کو پکڑ کر سنبھالا۔جب اس کے ہوش ٹھکانے ہوئے تو اس نے بیان کیا کہ میں علم توجہ کا بڑا ماہر ہوں میں نے یہ ارادہ کیا تھا کہ مرزا صاحب پر اپنی توجہ ڈالوں اور مجلس میں ان کوئی لغو حرکات کرادوں لیکن جب میں نے توجہ ڈالی تو میں نے دیکھا کہ میرے سامنے مگر ایک فاصلہ پر ایک شیر بیٹھا ہے میں اسے دیکھ کر کانپ گیا لیکن میں نے جی میں اپنے آپ کو ملامت کی کہ یہ میرا وہم ہے۔چنانچہ میں نے پھر مرزا صاحب پر توجہ ڈالنی شروع کی تو میں نے دیکھا کہ پھر وہی شیر میرے سامنے ہے اور میرے قریب آ گیا ہے اس پر پھر میرے بدن پر سخت لرزہ آیا مگر میں پھر سنبھل گیا اور میں نے جی میں اپنے آپ کو بہت ملامت کی کہ یوں ہی میرے دل میں وہم سے خوف پیدا ہو گیا چنانچہ میں نے اپنا دل مضبوط کر کے اور اپنی طاقت کو جمع کرکے پھر مرزا صاحب پر اپنی توجہ کا اثر ڈالا اور پورا زور لگایا۔اس پر نا گہاں میں نے دیکھا کہ وہی شیر میرے اوپر کود کر حملہ آور ہوا ہے اس وقت میں نے بے خود ہو کر چیخ ماری اور وہاں سے بھاگ اُٹھا۔حضرت خلیفہ ثانی بیان فرماتے تھے کہ وہ شخص پھر حضرت صاحب کا معتقد ہو گیا تھا اور ہمیشہ جب تک زندہ رہا آپ سے خط و کتابت رکھتا تھا۔(سيرة المهدى صفحه 61 - 62 روزنامه الفضل آن لائن لندن 27 نومبر 2021ء) 24