ربط ہے جانِ محمدؐ سے مری جاں کو مدام — Page 237
قسط 33 دعوی سے پہلے کی پاکیزہ زندگی اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے: فَقَدْ لَبِثْتُ فِيْكُمْ عُمُرًا مِنْ قَبْلِهِ أَفَلَا تَعْقِلُونَ ) (یونس: 17) ترجمہ: اس سے پہلے میں ایک عرصہ دراز تم میں گزار چکا ہوں۔کیا پھر (بھی) تم عقل سے کام نہیں لیتے۔نبوت سے پہلے کی زندگی کو اللہ تعالیٰ نے نبی کی صداقت کا ایک نشان قرار دیا ہے۔اس اصول کو سامنے رکھتے ہوئے سیرت نبوی کا مطالعہ کرتے ہیں۔عبد المطلب نے حضرت آمنہ کے چاند کا نام محمد صلی علی نام رکھا۔جس کا مطلب ہے نہایت ہی تعریف کیا گیا، تعریف و تحسین کے قابل اور آپ کی پاکیزہ زندگی کا ہر لمحہ قابل تعریف ہے۔بہت چھوٹی عمر سے آپ کی حسین صفات اپنی طرف متوجہ کر لیتیں۔حلیمہ سعدیہ کے آنگن کو بر کتوں سے بھر نے والا یہ بچہ فرشتوں کے سینہ چاک کر کے دل دھونے والے کشفی واقعہ سے غیر معمولی تصور ہونے لگا۔دادا کا لاڈلا ہوتا، چچا کا پسندیدہ بھتیجا سب کو پیارا لگتا۔کیو نکہ اس کی عادتیں دل لبھانے والی تھیں۔اللہ پاک اپنے محمد کی خود تربیت فرما رہا تھا۔بچپن کا ایک واقعہ خود آپ کی زبانی سنئے: میں بچوں کے ساتھ کھیل رہا تھا اور سب بچے کھیل کے واسطے پتھر اٹھا رہے تھے جیسا کہ بچوں کا قاعدہ ہے انہوں نے اپنے تہبند کھول کر کندھوں پر رکھ لئے تھے تا کہ ان پر پتھر ڈھو ڈھو کر لائیں میں نے بھی چاہا کہ میں بھی اپنا تہبند اپنے کندھوں پر رکھ کر پتھر اٹھاؤں کہ غیب سے ایک طمانچہ میرے لگا جس سے مجھ کو نہایت صدمہ پہنچا اور غیب سے آواز آئی کہ اپنے تہبند کو مضبوط باندھ لو پس میں نے اس کو مضبوط باندھ لیا اور گردن پر پتھر اٹھانے لگا حالا نکہ میرے سب ساتھی اسی طرح پتھر اٹھا رہے تھے اور ان میں فقط ایک میں ہی تہبند باندھے ہوئے تھا۔“ (ابن ہشام صفحہ 119) مکہ میں رہتے ہوئے جبکہ سارا ماحول بت پرست تھا آپ کو بتوں کی پوجا پسند نہ تھی جاہلانہ رسوم و رواج سے نفرت کرتے تھے۔وہاں شام کے وقت راگ رنگ، قصہ گوئی اور کھیل کود کی محفلیں سجتی تھیں۔237