ربط ہے جانِ محمدؐ سے مری جاں کو مدام — Page 23
ربط ہے جان محمد سے مری جاں کو مدام واللہ! میں نے تو ایک عجیب نظارہ دیکھا ہے اور وہ یہ کہ جب محمد نے جا کر ابوالحکم کے دروازہ پر دستک دی اور ابوالحکم نے باہر آکر محمد کو دیکھا تو اس وقت اس کی حالت ایسی تھی کہ گویا ایک قالب بے روح ہے اور جوں ہی کہ اسے محمد نے کہا کہ اس کی رقم ادا کردو، اسی وقت اس نے اندر سے پائی پائی لا کر سامنے رکھ دی۔“ تھوڑی دیر کے بعد ابو جہل بھی اس مجلس میں آپہنچا۔اسے دیکھتے ہی سب لوگ اس کے پیچھے ہو لیے کہ اے ابو الحکم! تمہیں کیا ہو گیا تھا کہ محمدؐ سے اس قدر ڈر گئے۔اس نے کہا: خدا کی قسم! جب میں نے محمد کو اپنے دروازے پر دیکھا، تو مجھے یوں نظر آیا کہ اس کے ساتھ لگا ہوا ایک مست اور غضبناک اونٹ کھڑا ہے اور میں سمجھتا تھا کہ اگر ذرا بھی چون و چرا کروں گا تو وہ مجھے چیا جائے گا۔(سیرت ابن ہشام۔سیرت خاتم النبیین از حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صفحہ 162 - 163) آپ کے غلام صادق سے بھی اللہ تبارک تعالیٰ نے معجزانہ طریق پر لو گوں کے دلوں پر رعب قائم کرنے کا وعدہ فرمایا تھا 1883ء میں الہام ہوا: نصِرْتَ بِالرُّعْبِ وَأَحْيِيتَ بِالصِّدْقِ أَيُّهَا الصِّدِّيقُ نُصِرْتَ وَقَالُوا لَاتَ حِينَ مَنَاصٍ تذ کرہ اردو ایڈیشن چہارم 2004ء صفحہ 53) (ترجمہ) تو رعب کے ساتھ مدد کیا گیا اور صدق کے ساتھ زندہ کیا گیا اے صدیق۔تو مدد کیا گیا اور مخالفوں نے کہا کہ اب گریز کی جگہ نہیں، آپ کی زندگی کا ایک ایک لمحہ اللہ تبارک تعالیٰ کے عنایت کردہ رعب کی مثالوں سے بھرا پڑا ہے۔یہاں پر ایک واقعہ درج ہے جو آنحضور صلی ال نیلم کے ابو جہل کے واقعہ سے بہت ملتا ہے۔ایک دفعہ ایک ہندو جو گجرات کا رہنے والا تھا۔قادیان کسی بارات کے ساتھ آیا۔یہ شخص علم توجہ کا ماہر تھا چنانچہ اس نے اپنے ساتھیوں سے کہا کہ ہم لوگ قادیان آئے ہوئے ہیں چلو مرزا صاحب سے ملنے چلیں اور اس کا منشاء یہ تھا کہ لوگوں کے سامنے حضرت صاحب پر اپنی توجہ کا اثر ڈال کر آپ سے بھری مجلس میں کوئی بیہودہ حرکات کرائے۔جب وہ مسجد میں حضور سے ملا تو اس نے اپنے علم سے آپ پر اپنا اثر ڈالنا شروع کیا مگر تھوڑی دیر کے بعد وہ یکلخت کانپ اُٹھا مگر سنجل کر بیٹھ گیا اور اپنا کام پھر شروع کر دیا 23