ربط ہے جانِ محمدؐ سے مری جاں کو مدام

by Other Authors

Page 227 of 426

ربط ہے جانِ محمدؐ سے مری جاں کو مدام — Page 227

ربط ہے جان محمد سے مری جاں کو مدام گواہ ہے کہ اپنی زندگی کے آخری لمحات تک آپ صلی علی کرم نے دعاؤں کے دامن کو تھامے رکھا۔حضرت عائشہ یہ روایت کرتی ہیں کہ: آپ کی یکم رات کو اس قدر لمبا قیام فرماتے تھے کہ اس کی وجہ سے آپ کے پاؤں سوج جایا کرتے تھے۔کھڑے ہو کر جو نماز پڑھا کرتے تھے۔اس پر میں نے پوچھا کہ یا رسول اللہ کیا آپ کے متعلق اللہ تعالیٰ نے یہ نہیں فرمایا کہ آپ کے سارے گناہ بخشے گئے ہیں۔پہلے بھی اور بعد کے بھی تو اب بھی اتنا لمبا قیام فرماتے ہیں؟ تو آپ نے فرمایا کیا میں خدا کا عبد شکور نہ بنوں جس نے مجھ پر اتنا احسان کیا ہے۔کیا میں اس کا شکریہ ادا کرنے کے لئے نہ کھڑا ہوا کروں۔( بخاری کتاب التفسير - سورة الفتح باب قوله ليغفر لك الله ما تقدم من ذنبك وما تأخر ) حضرت عائشہ ہی سے روایت ہے کہ: حضور صلی اللہ علیہ وسلم ایک رات میرے پاس تشریف لائے اور بستر پر لیٹ گئے۔پھر آپ نے فرمایا اے عائشہ! کیا آج کی رات تو مجھے اجازت دیتی ہے کہ اپنے رب کی عبادت کر لوں۔میں نے کہا خدا کی قسم! مجھے تو آپ کی خواہش کا احترام ہے اور آپ کا قرب پسند ہے۔میری طرف سے آپ کو اجازت ہے۔تب آپ اٹھے۔مشکیزہ سے وضو کیا اور نماز کے لئے کھڑے ہوئے اور نماز پڑھنی شروع کی اور اس قدر روئے کہ آنسو آپ کے سینے پر گرنے لگے اور نماز کے بعد دائیں طرف ٹیک لگا کر اس طرح بیٹھ گئے کہ آپ کا دایاں ہاتھ آپ کی دائیں رخسار کے نیچے تھا۔پھر رونا شروع کر دیا یہاں تک کہ آپ کے آنسو زمین پر ٹپکنے لگے۔فجر کی نماز کے وقت حضرت بلال بلانے کے لئے آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور انہوں نے آپ کو اس طرح گریہ وزاری کرتے ہوئے دیکھا تو کہنے لگے کہ یا رسول اللہ ! آپ اتنا کیوں روتے ہیں جبکہ اللہ تعالیٰ آپ کے گزشتہ اور آئندہ ہونے والے سارے گناہ بخش چکا ہے۔اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔کیا میں اللہ کا شکر گزار بندہ نہ بنوں اور میں کیوں نہ روؤں کہ آج رات میرے رب نے یہ آیات نازل کی ہیں۔وہ آیات ہیں آل عمران کی إِنَّ فِي خَلْقِ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ وَاخْتِلَافِ الَّيْلِ وَالنَّهَارِ لَايَتِ لِأُولِي الْأَلْبَابِ الَّذِينَ يَذْكُرُونَ اللَّهَ قِيِّمًا وَقُعُوْدًا وَعَلَى جُنُوبِهِمْ وَيَتَفَكَّرُوْنَ فِي خَلْقِ السَّمَوتِ وَالْأَرْضِ رَبَّنَا مَا خَلَقْتَ هَذَا بَاطِلاً سُبْحَنَكَ فَقِنَا عَذَابَ النَّارِ) (آل عمران: 191-192) یعنی یقیناً آسمانوں اور زمین کی پیدائش میں، رات اور دن کے ادلنے بدلنے میں صاحب عقل لو گوں کے لئے نشانیاں ہیں۔وہ لوگ جو اللہ کو یاد کرتے ہیں کھڑے ہوئے بھی اور بیٹھے ہوئے بھی اور اپنے پہلوؤں کے بل بھی 227