ربط ہے جانِ محمدؐ سے مری جاں کو مدام

by Other Authors

Page 221 of 426

ربط ہے جانِ محمدؐ سے مری جاں کو مدام — Page 221

ربط ہے جانِ محمد سے مری جاں کو مدام آنحضرت صلی ال نیم کے عاشق صادق حضرت مسیح موعود علیہ السلام آپ کے نور کامل سے فیضیاب ہوئے پھر اسی نور کو آگے پھیلایا فرماتے ہیں کہ "اگر اللہ تعالیٰ کو تلاش کرنا ہے تو مسکینوں کے دل کے پاس تلاش کرو اسی لئے پیغمبروں نے مسکینی کا جامہ ہی پہن لیا تھا۔اسی طرح چاہیئے کہ بڑی قوم کے لوگ چھوٹی قوم کو ہنسی نہ کریں اور نہ کوئی یہ کہے کہ میرا خاندان بڑا ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ تم جو میرے پاس آؤ گے تو یہ سوال نہ کروں گا کہ تمہاری قوم کیا ہے۔بلکہ سوال یہ ہو گا کہ تمہارا عمل کیا ہے۔اسی طرح پیغمبر خدا (صلی اللہ علیہ وسلم) نے فرمایا ہے اپنی بیٹی سے کہ اے فاطمہ! خدا تعالیٰ ذات کو نہیں پوچھے گا اگر تم کوئی برا کام کرو گی تو خدا تعالیٰ اس واسطے در گزر نہ کرے گا کہ تم رسول کی بیٹی ہو۔“ (ملفوظات جلد سوم صفحہ 370) پھر آپ فرماتے ہیں: ”اہل تقویٰ کے لئے یہ شرط ہے کہ وہ اپنی زندگی غربت اور مسکینی میں بسر کریں۔یہ تقویٰ کی ایک شاخ ہے جس کے ذریعہ سے ہمیں ناجائز غضب کا مقابلہ کرنا ہے۔بڑے بڑے عارف اور صدیقوں کے لئے آخری اور کڑی منزل غضب سے بچنا ہی ہے۔عُجب و پندار غضب سے پیدا ہوتا ہے اور ایسا ہی کبھی خود غضب عجب و پندار کا نتیجہ ہوتا ہے کیونکہ غضب اس وقت ہو گا جب انسان اپنے نفس کو دوسرے پر ترجیح دیتا ہے۔میں نہیں چاہتا کہ میری جماعت والے آپس میں ایک دوسرے کو چھوٹا یا بڑا سمجھیں یا ایک دوسرے پر غرور کریں یا نظر استخفاف سے دیکھیں۔خدا جانتا ہے کہ بڑا کون ہے یا چھوٹا کون ہے۔یہ ایک قسم کی تحقیر ہے جس کے اندر حقارت ہے۔ڈر ہے کہ یہ حقارت بیچ کی طرح بڑھے اور اس کی ہلاکت کا باعث ہو جائے۔بعض آدمی بڑوں کو مل کر بڑے ادب سے پیش آتے ہیں۔لیکن بڑا وہ ہے جو مسکین کی بات کو مسکینی سے سنے اس کی دلجوئی کرے، اس کی بات کی عزت کرے۔کوئی چڑ کی بات منہ پر نہ لاوے کہ جس سے دکھ پہنچے خدا تعالیٰ فرماتا ہے: وَلَا تَلْمِزُوا أَنْفُسَكُمْ وَلَا تَنَابَزُوا بِالْأَلْقَبِ بِئْسَ الِاسْمُ الْفُسُوقُ بَعْدَ الْإِيْمَنِ وَمَنْ لَّمْ يَتُبْ فَأُولَبِكَ هُمُ الظَّلِمُونَ (الحجرات: 12) تم ایک دوسرے کا چڑ کے نام نہ لو۔یہ فعل فستاق وفجار کا ہے۔جو شخص کسی کو چڑاتا ہے وہ نہ مرے گا جب تک وہ خود اسی طرح مبتلا نہ ہو گا۔اپنے بھائیوں کو حقیر نہ سمجھو۔جب ایک ہی چشمہ سے کل پانی پیتے ہو تو کون جانتا ہے کہ کس کی قسمت میں زیادہ پانی پینا ہے۔مکرم و معظم کوئی دنیاوی اصولوں سے نہیں 221