ربط ہے جانِ محمدؐ سے مری جاں کو مدام

by Other Authors

Page 22 of 426

ربط ہے جانِ محمدؐ سے مری جاں کو مدام — Page 22

ربط ہے جانِ محمد سے مری جاں کو مدام شخص مکہ میں کچھ اونٹ بیچنے آیا اور ابو جہل نے اس سے یہ اونٹ خرید لئے مگر اونٹوں پر قبضہ کرلینے کے بعد قیمت ادا کرنے میں حیل و حجت کرنے لگا۔اس پر اراشہ جو مکہ میں ایک اجنبی اور بے یارومدد گار تھا بہت پریشان ہوا اور چند دن تک ابو جہل کی منت سماجت کرنے کے بعد وہ آخر ایک دن جبکہ بعض رؤسا قریش کعبۃ اللہ کے پاس مجلس جمائے بیٹھے تھے، ان لو گوں کے پاس گیا اور کہنے لگا کہ اے معززین قریش آپ میں سے ایک شخص ابوالحکم نے میرے اونٹوں کی قیمت دبا ر کھی ہے آپ مہربانی کرکے مجھے یہ قیمت دلوادیں۔قریش کو شرارت جو سوجھی تو کہنے لگے ایک شخص یہاں محمد بن عبد اللہ نامی رہتا ہے تم اس کے پاس جاؤ۔وہ تمہیں قیمت دلا دے گا اور اس سے غرض ان کی یہ تھی کہ آنحضرت صلی الم تو بہر حال انکار ہی کریں گے اور اس طرح باہر کے لوگوں میں آپ کی سبکی اور جنسی ہو گی۔جب اراشہ وہاں سے لوٹا تو قریش نے اس کے پیچھے پیچھے ایک آدمی کر دیا کہ دیکھو! کیا تماشا بنتا ہے، چنانچہ اراشہ اپنی سادگی میں آنحضرت صلی الم کے پاس آیا اور کہنے لگا کہ: میں ایک مسافر آدمی ہوں اور آپ کے شہر کے ایک رئیس ابوالحکم نے میری رقم دبا ر کھی ہے اور مجھے بتایا گیا ہے کہ آپ مجھے یہ رقم دلواسکتے ہیں۔پس آپ مہربانی کر کے مجھے میری رقم دلوادیں“ آنحضرت صلى ال عالم فوراً اُٹھ کھڑے ہوئے کہ چلو میں تمہارے ساتھ چلتا ہوں چنانچہ آپ اسے لے کر ابو جہل کے مکان پر آئے اور دروازے پر دستک دی۔ابو جہل باہر آیا تو آپ کو دیکھ کر ہکا بکا رہ گیا اور خاموشی کے ساتھ آپ کا منہ دیکھنے لگا آپ نے فرمایا: یہ شخص کہتا ہے کہ اس کے پیسے آپ کی طرف نکلتے ہیں۔یہ ایک مسافر ہے آپ اس کا حق کیوں نہیں دیتے؟" اس وقت ابو جہل کا رنگ فق ہو رہا تھا۔کہنے لگا محمد! ٹھہرو۔میں ابھی اس کی رقم لاتا ہوں۔چنانچہ وہ اندر گیا اور اراللہ کی رقم لا کر اسی وقت اس کے حوالے کر دی۔اراشہ نے آنحضرت صلی علم کا بہت شکریہ ادا کیا اور واپس آکر قریش کی اسی مجلس میں پھر گیا اور وہاں جا کر ان کا بھی شکریہ ادا کیا کہ آپ لو گوں نے مجھے ایک بہت ہی اچھے آدمی کا پتہ بتایا۔خدا اسے جزائے خیر دے اس نے اسی وقت میری رقم دلا دی۔رؤساء قریش کے منہ میں زبان بند تھی اور وہ ایک دوسرے کی طرف حیران ہو کر دیکھ رہے تھے۔جب اراشہ چلا گیا تو انھوں نے اس آدمی سے دریافت کیا جو اراشہ کے پیچھے پیچھے ابو جہل کے مکان تک گیا کہ کیا قصہ ہوا ہے۔اس نے کہا: 22