ربط ہے جانِ محمدؐ سے مری جاں کو مدام — Page 217
ربط ہے جان محمد سے مری جاں کو مدام آپ کا عکس آپ کی سنت پر عمل کرتے ہوئے حضرت اقدس مسیح موعود" میں بھی نمایاں تھا۔حضرت میاں بشیر احمد صاحب بیان کرتے ہیں کہ خواجہ عبدالرحمن صاحب کشمیر کے رہنے والے تھے۔انہوں نے ان کو خط میں لکھا کہ ایک دفعہ ایک بہت موٹا کتا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے گھر میں گھس آیا اور ہم بچوں نے اسے دروازہ بند کر کے مارنا چاہا۔لیکن جب کتے نے شور مچایا تو حضرت صاحب کو بھی پتہ لگ گیا اور آپ ہم پر ناراض ہوئے چنانچہ ہم نے دروازہ کھول کر کتے کو چھوڑ دیا۔(ماخوذ از سیرت المہدی جلد اوّل صفحہ 313 روایت نمبر 342 جدید ایڈیشن) آپ۔سے ہی روایت ہے کہ ایک دفعہ میاں (یعنی حضرت خلیفۃ المسیح الثانی دالان کے دروازے بند کر کے چڑیاں پکڑ رہے تھے کہ حضرت صاحب نے جمعہ کی نماز کے لئے باہر جاتے ہوئے ان کو دیکھ لیا اور فرمایا: ”میاں! گھر کی چڑیاں نہیں پکڑا کرتے۔جس میں رحم نہیں اس میں ایمان نہیں۔“ (سیرت المہدی جلد اوّل روایت نمبر 178 صفحہ 176 جدید ایڈیشن) کتنی پر حکمت بات ہے رحم اور ایمان لازم ملزوم ہیں۔رحمۃ للعالمین کے شیدائی نے جانور پر بھی ظلم برداشت نہ کیا۔آپ کے رحم کی وسعتیں بے کراں تھیں۔حضرت مصلح موعودؓ تحریر فرماتے ہیں: ”میں بچپن میں ایک دفعہ ایک طوطا شکار کر کے لایا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اسے دیکھ کر کہا کہ محمود! اس کا گوشت حرام تو نہیں مگر اللہ تعالیٰ نے ہر جانور کھانے کے لئے ہی پیدا نہیں کیا۔بعض خوبصورت جانور دیکھنے کے لئے ہیں کہ انہیں دیکھ کر آنکھیں راحت پائیں۔بعض جانوروں کو عمدہ آواز دی ہے کہ ان کی آواز سن کر کان لذت حاصل کریں۔پس اللہ تعالیٰ نے انسان کی ہر حس کے لئے نعمتیں پیدا کی ہیں وہ سب کی سب چھین کر زبان ہی کو نہ دے دینی چاہئیں۔دیکھو یہ طوطا کیسا خوبصورت جانور ہے۔درخت پر بیٹھا ہوا دیکھنے والوں کو کیسا بھلا معلوم ہوتا ہو گا۔“ (ماخوذ از تفسیر کبیر جلد 4 صفحه 263) آپ کی محبت انسان حیوان سب کے لئے تھی۔اللہ تعالیٰ ہمیں بھی ایسے اوصاف اپنانے کی توفیق عطا فرماتا رہے آمین اللهم آمین۔روزنامه الفضل آن لائن لندن 15 جولائی 2022ء) 217