ربط ہے جانِ محمدؐ سے مری جاں کو مدام — Page 216
ربط ہے جان محمد سے مری جاں کو مدام منع فرمایا کہ اس طرح اذیت دینے کا بھی بدلہ لیا جائے گا۔اگر ضروری ہے تو پیٹھ کی ہڈی پر نشان لگا سکتے ہیں تا کہ جانور کو تکلیف کم ہو۔(مجمع الزوائد لهيثمي جلد 8 صفحہ 203 والبخاري في الادب المفرد) چھوٹے چھوٹے خوش نما پرندے بھی سمجھتے تھے کہ ہمارا چارہ گر کوئی ہے تو حضرت محمد لی ایم ہے۔آپ نے ایک سفر میں پڑاؤ کیا۔ایک شخص نے جا کر ایک چڑیا کے گھونسلے سے انڈے نکال لئے۔وہ چڑیا آ کر رسول کریم اور آپ کے صحابہ رضی اللہ عنہم کے سر پر منڈلانے لگی۔آپ کی نظر اس پر پڑی تو فرمایا کہ اس پرندہ کو کس نے دکھ پہنچایا ہے۔ایک شخص نے کہا، حضور میں نے اس کے انڈے اٹھائے ہیں، رسول کریم نے فرمایا: ”جاؤ! اس کے انڈے واپس اس کے گھونسلے میں رکھ دو (مسند احمد جلد 1 صفحہ 404) آپ نے شکاری پرندے نیز چیونٹی، شہد کی مکھی اور ہد ہد کو مارنے سے منع فرمایا۔حشرات الارض پر رحمت کا اندازہ اس روایت سے بھی ہوتا ہے کہ آپ نے گھروں میں رہنے والے چھوٹے بے ضرر سانیوں کو مارنے سے بھی منع فرمایا ہے۔آپ ایک عظیم ہمدردی اور دوسروں کا احساس رکھنے والے انسان تھے جانوروں سے بھی محبت کرتے تھے مثال کے طور پر ایک بلی کو اپنے کپڑے پر سوئے ہوئے دیکھا تو وہاں سے اٹھانا پسند نہ کیا کہا جاتا ہے کہ کسی معاشرے کا ایک امتحان جانوروں کے ساتھ لو گوں کا رویہ ہوتا ہے تمام مذاہب محبت کے رویے کی حوصلہ افزائی کرتے اور عالم قدرت کی عزت کرتے ہیں محمدصلی اللہ علم ہی سبق دینا چاہتے تھے۔جاہلیت میں عرب جانوروں سے بہت برا سلوک کرتے تھے۔وہ زندہ جانوروں سے کھانے کے لئے گوشت کاٹ لینے سے دریغ نہ کرتے تھے۔وہ اونٹوں کی گردنوں میں تکلیف دہ حلقے ڈال دیتے تھے محمدصلی علی کریم نے جانوروں کو داغنے کے ظالمانہ طریق اور جانوروں کی لڑائیوں سے روک دیا۔(Muhammad A Biography of prophet by Karen Armstrong page 231) (منقول از اسوه انسان کامل از حافظ مظفر احمد صفحه 582) رحم ہے جوش میں اور غیظ گھٹایا ہم نے اللہ تعالیٰ کی صفت رحیمیت کا سب سے بہترین نمونہ آنحضرت صلی للی ملک کے اخلاق فاضلہ میں نظر آتا ہے۔216