ربط ہے جانِ محمدؐ سے مری جاں کو مدام

by Other Authors

Page 210 of 426

ربط ہے جانِ محمدؐ سے مری جاں کو مدام — Page 210

رنج اور صدمہ ہوا کہ یہ تو خراب ہو گئے۔ادھر کھانے کا وقت ہو گیا تھا حیران تھی کہ اب کیا کروں اتنے میں حضرت صاحب آگئے۔میرے چہرے کو دیکھا جو رنج اور صدمہ سے رونے والوں کا سا بنا ہوا تھا۔آپ دیکھ کر ہنسے اور فرمایا کیا چاول اچھے نہ پکنے کا افسوس ہے؟ پھر فرمایا نہیں یہ تو بہت اچھے ہیں میرے مذاق کے مطابق پچکے ہیں ایسے زیادہ گڑ والے ہی تو مجھے پسندیدہ ہیں۔یہ تو بہت ہی اچھے ہیں اور پھر خوش ہو کر کھائے۔۔۔حضرت صاحب نے مجھے خوش کرنے کی اتنی باتیں کیں کہ میرا دل بھی خوش ہو گیا (سیرت حضرت سیدہ نصرت جہاں بیگم حصہ اول صفحہ 315 - 316) کس زباں سے میں کروں شکر کہاں ہے وہ زباں کہ میں ناچیز ہوں اور رحم فراواں تیرا چن لیا تو نے مجھے اپنے مسیحا کے لیے پہلے یہ کرم ہے میرے جاناں تیرا شعائر الله حضرت اقدس الدار میں گرمیوں میں صحن میں سویا کرتے تھے۔بارش ہو جاتی تو بستر وغیرہ اٹھا کر اندر لے جانے پڑتے حضرت اماں جان نے تجویز دی کہ آدھے صحن پر چھت ڈال لی جائے تو یہ تکلیف کم ہو سکتی ہے۔بعض احباب نے اس تجویز کی مخالفت کی مگر حضور نے اماں جان کی بات رکھی فرمایا ”خدا تعالیٰ نے مجھے لڑکوں کی بشارت دی اور وہ اس بی بی کے بطن سے پیدا ہوئے اس لئے میں اسے شعائر اللہ سے سمجھ کر اس کی خاطر داری رکھتا ہوں اور جو وہ کہے مان لیتا ہوں“ (سیرت حضرت سیدہ نصرت جہاں بیگم صفحہ 229) حضرت میر محمد اسمعیل صاحب اپنے عینی مشاہدہ کو اس طرح بیان فرماتے ہیں: میں نے اپنے ہوش میں نہ کبھی حضور کو حضرت ام المؤمنین سے ناراض دیکھا نہ سنا۔بلکہ ہمیشہ وہ حالت دیکھی جو ایک آئیڈیل جوڑے کی ہونی چاہئے۔بہت کم خاوند اپنی بیویوں کی وہ دلداری کرتے ہیں جو حضور حضرت ام المؤمنین کی فرمایا کرتے تھے“ (سیرت حضرت سیدہ نصرت جہاں بیگم صفحہ 231) 210