ربط ہے جانِ محمدؐ سے مری جاں کو مدام

by Other Authors

Page 188 of 426

ربط ہے جانِ محمدؐ سے مری جاں کو مدام — Page 188

ربط ہے جان محمد سے مری جاں کو مدام پر اندر گئے اور ساری رقم واپس کر دی۔اس قدر تم محمد سے ڈر گئے تھے۔اس نے کہا خدا کی قسم! جب میں نے محمد کو اپنے دروازے پر دیکھا تو مجھے یوں نظر آیا کہ اس کے ساتھ لگا ہوا ایک مست اور غضب ناک اونٹ کھڑا ہے اور میں سمجھتا تھا کہ میں نے اگر ذرا بھی چون و چرا کیا تو وہ اونٹ مجھے چبا جائے گا۔(بحوالہ سیرت خاتم النبيين صفحہ 162 - 163 السيرة النبوية لابن هشام صفحه 281 زیر امر الاراشي الذي باع ابا جهل ابله آنحضرت کی شجاعت کے لئے تو یہ نمونہ کافی ہے حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ: الله س یں رسول کریم صلی الی ایم کے ساتھ غار میں تھا۔میں نے اپنا سر اٹھا کر دیکھا تو تعاقب کرنے والوں کے پاؤں دکھائی دیئے۔اس پر میں نے رسول کریم کی تعلیم سے عرض کیا یا رسول اللہ کی ملی یکم اگر کوئی نظر نیچے کرے گا تو ہمیں دیکھ لے گا۔آپ نے جواب میں ارشاد فرمایا اے ابو بکر! ہم دو ہیں اور ہمارے ساتھ تیسرا خدا ہے۔تو جہاں یہ واقعہ خدا تعالیٰ کی ذات پر یقین کا اظہار کرتا ہے۔وہاں آپ کی جرات و شجاعت کا بھی اظہار ہو رہا ہے۔آپ خاموشی سے اشارہ بھی کر سکتے تھے کہ خاموش رہو۔باہر لوگ کھڑے ہیں بولو نہیں۔لیکن خداتعالی کی ذات پر یقین کی وجہ سے آپ میں جو جرآت تھی اس کی وجہ سے دشمن کے سر کھڑا ہونے کے باوجود اس کی پرواہ نہ کرتے ہوئے فرمایا کہ ابو بکر فکر نہ کرو، خدا ہمارے ساتھ ہے“ بخاری کتاب مناقب الانصار باب هجرة النبي واصحابه الى المدينة ) پر اس واقعہ کا ذکر کرتے ہوئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں کہ: کو آپ کی کمال شجاعت کو دیکھو کہ دشمن سر پر ہے اور آپ اپنے رفیق صادق صدیق رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں لاتحزن إنّ اللهَ مَعَنا (التوبہ: (40) یہ الفاظ بڑی صفائی کے ساتھ ظاہر کرتے ہیں کہ آپ نے زبان ہی سے فرمایا کیونکہ یہ آواز کو چاہتے ہیں، اشارہ سے کام نہیں چلتا، باہر دشمن مشورہ کر رہے ہیں اور اندر غار میں خادم و مخدوم بھی باتوں میں لگے ہوئے ہیں، اس امر کی پروا نہیں کی گئی کہ دشمن آواز سن لیں گے، یہ اللہ تعالیٰ پر کمال ایمان اور معرفت کا ثبوت ہے۔خدا تعالیٰ کے وعدوں پر پورا بھروسہ ہے۔آنحضرت صلی الم کی شجاعت کے لئے تو یہ نمونہ کافی ہے“ ( ملفوظات جلد اول صفحہ 250 251 ایڈیشن 1988ء) - 188