ربط ہے جانِ محمدؐ سے مری جاں کو مدام — Page 17
قسط 2 غیر مسلم عادل حکومت کی پناہ اور تعریف تم لوگ حبشہ چلے جاؤ۔کیو نکہ وہاں پر ایسا بادشاہ ہے جو کسی پر ظلم نہیں کرتاوہ ارضِ حق یعنی سچائی والی زمین ہے"۔(سيرة ابن ہشام جلد اول صفحہ (321) مکہ میں مسلمانوں پر مسلسل ظلم و ستم سے عرصہ حیات تنگ ہو گیا تو آنحضرت علی لی ایم نے حبشہ کی طرف ہجرت کرنے کا ارشاد فرمایا۔ہجرت کے لئے ارضِ حبشہ کے انتخاب کی وجہ کیا تھی؟ حبشہ کا بادشاہ نجاشی مسلم نہیں تھا لیکن ان میں ایسی صفات موجود تھیں جو اسلام کی تعلیم سے مطابقت رکھتی تھیں وہ رحم دل اور عادل تھے آپ کو توقع تھی کہ مسلمان وہاں سکون سے رہیں گے۔اس لئے آپ نے ان کا انتخاب فرمایا اور انہیں تعریف سے نوازا۔دوسرے آپ نے ایران کے بادشاہ نوشیرواں کی تعریف فرمائی اس کی وجہ بھی اس کا عدل تھا۔پیغمبر اسلام نے نوشیرواں عادل کے عہد سلطنت میں ہونے کا ذکر مدح اور فخر کے رنگ میں بیان فرمایا ہے“ (تحریر علی الحائری شیعه عالم موعظه تحریف قرآن 72 از علی الحائری 1932ء) ان دونوں غیر مسلم بادشاہوں سے آپ نے کوئی مالی منفعت حاصل نہیں کی۔جہاں اچھائی دیکھی تعریف فرمائی حکمت مومن کی میراث ہے۔آپ کا غیر مسلم مگر عادل رعایا کی سلطنت میں ہونے کا مدح اور فخر سے ذکر فرمانا آپ کی ذات کے غیر جانبدار عادل ہونے کی بہت بڑی مثال ہے۔یہاں حسن خلق کی قدردانی کی ایک دلفریب مثال کے طور پر ایک واقعہ مختصر 1 پیش ہے۔قبیلہ کے کے کچھ جنگی قیدی آپ کی یلم کی خدمت میں پیش ہوئے جن میں حاتم طائی کی بیٹی بھی تھی۔اس نے آگے بڑھ کر آپ سے پوچھا: آپ جانتے ہیں میں کون ہوں؟ 17