ربط ہے جانِ محمدؐ سے مری جاں کو مدام — Page 18
ربط ہے جانِ محمد سے مری جاں کو مدام رسول کریم صلی الکریم نے فرمایا نہیں میں نہیں جانتا۔الله اس لڑکی نے کہا میں اس باپ کی بیٹی ہوں جس کی سخاوت کے ذکر سے سارا عرب گونج رہا ہے۔رسول کریم کی ایم نے فرمایا اس کا باپ محسن تھا اور وہ دنیا کے ساتھ نیکی کا سلوک کرتا تھا، ہم ایسے باپ کی لڑکی کو قید کرنا نہیں چاہتے، چنانچہ آپ نے اسے آزاد کر دیا اور اس کی درخواست پر اس کے سارے قبیلے اور مفرور بھائی کو بھی آزاد کر دیا۔حاتم طائی کا اسلام پر کوئی احسان نہیں تھا، وہ صرف اپنے علاقہ میں سخاوت کے لئے مشہور تھا محمد رسول اللہ صلی علی کی اور آپ کی جماعت کے لئے اس نے کوئی کام نہیں کیا تھا۔آپ نے صرف اس وجہ سے کہ وہ غریبوں پر احسان کیا کرتا تھا اس کے سارے قبیلے کو معاف کر دیا۔آپ نے فرمایا۔ہم ایسے شخص کی قوم کو قید نہیں کر سکتے جو اپنی زندگی میں غریبوں پر احسان کیا کرتا تھا۔(خلاصه از تفسیر کبیر جلد 10 صفحه 374) هَلْ جَزَاءُ الْإِحْسَانِ إِلَّا الْإِحْسَانُ ) (الرحمن: 61) حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے عہد مبارک سے پہلے بر صغیر پر سکھوں کا راج تھا جو اسلام کے مخالف تھے اور دشمنی میں اس حد تک بڑھ گئے تھے کہ آواز اذان کی بھی برداشت نہ تھی مساجد پر بے جواز قبضہ کرنا اپنا حق سمجھتے تھے۔Sir Lepal Griffin کی رنجیت سنگھ“ نامی کتاب جو کہ 'S Chand & Co' کی طرف سے دہلی میں شائع ہوئی، اس کے صفحہ 84 پر لکھا ہے اس زمانے میں سکھ فوج کو باقاعدہ تنخواہ کا کوئی نظام نہیں تھا۔وہ اپنے گرو سے اجازت لے کر کوئی نہ کوئی شہر لوٹتے تھے۔جب تک ذاتی دفاع کی طاقت نہ ہو تو نہ کسی کی زمین، گھوڑا یہاں تک کہ بیوی بھی محفوظ نہیں۔“ اس کے بر عکس انگریزوں نے انصاف کا بول بالا کیا جس سے معاشرتی گھٹن سے نجات اور مذہبی آزادی حاصل ہوئی۔کسمپرسی کی حالت میں رہنے سے کمزور مسلمانوں کی دینی حمیت کو بھی نقصان پہنچا تھا انگریزوں کی انصاف پسندی دیکھ کر مختلف ادیان سے لوگ اور عام مسلمان حتی کہ بعض علمائے اسلام بھی عیسائیت میں پناہ ڈھونڈنے لگے ایسے مذہب تبدیل کرنے والے مرتدین سے عیسائیوں کی تعداد ستائیس ہزار سے پانچ لاکھ تک پہنچ گئی تھی۔ان لوگوں نے نہ صرف مذہب تبدیل کیا بلکہ اپنے آقاؤں کو خوش 18