ربط ہے جانِ محمدؐ سے مری جاں کو مدام — Page 169
۔خدمت میں تشریف لائے اور فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کی قوم کا آپ سے کیا گیا سلوک دیکھ لیا ہے اور پہاڑوں کا فرشتہ بھجوایا ہے۔آپ اسے جو حکم دیں گے یہ بجالائے گا۔چنانچہ پہاڑوں کے فرشتے نے سلام کر کے کہا کہ آپ جو حکم دیں گے میں وہ کروں گا اگر آپ چاہیں تو میں یہ دونوں پہاڑ ان پر گرادوں۔آپ نے نہایت عفو ورحم کا مظاہرہ کرتے ہوئے فرمایا کہ نہیں نہیں ایسا نہ کرو مجھے امید ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کی نسل میں سے ایسے لوگ ضرور پیدا کرے گا جو خدائے واحد کے پرستار ہوں گے اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہرائیں گے۔(بخاری کتاب بدء الخلق، سیرت ابن ہشام جزء 1 صفحہ 421) رسول اللہ صلی السلام نے طائف میں گزرے مشکل ترین دن کو غزوۂ احد والے دن سے زیادہ تکلیف دہ بیان فرمایا۔جبکہ غزوہ احد میں آپ کے دو دندان مبارک شہید ہوئے اور آپ شدید زخمی ہوئے پھر بھی آپ نے اپنے دشمنوں کے خلاف بد دعا اور لعنت نہ فرمائی۔قریش مکہ نے دارالندوہ میں جمع ہو کر آپ کو قتل کرنے کا منصوبہ بنایا۔ہجرت مدینہ کے بعد بھی کفار مکہ نے چین سے نہ بیٹھنے دیا۔تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے کفار کے معاشی و معاشرتی، دینی و دنیاوی ظلم کی چکی میں پسنے والے مسلمانوں کو اپنے دفاع اور مظلوم مسلمانوں کی مدد کی خاطر جنگ کرنے کی اجازت مل گئی۔جنگ احد میں جب مسلمانوں کو نقصان پہنچا اور حضور صلی الی کی بھی زخمی ہو گئے تو کسی نے حضور صلی ایم کی خدمت میں مخالفین اسلام کے خلاف بد دعا کرنے کی درخواست کی تو آپ کی لیے ہم نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے مجھے لعنت ملامت کرنے والا بنا کر نہیں بھیجا بلکہ اس نے مجھے خدا کا پیغام دینے والا اور رحمت کرنے والا بنا کر بھیجا ہے۔اس کے بعد حضور صلی می کرم نے اللہ کے حضور یہ دعا کی کہ اے اللہ میری قوم کو ہدایت دے دے کیونکہ وہ حقیقت سے نا آشنا ہیں۔اسی طرح ایک اور روایت میں ہے کہ: (شعب الایمان للبيهقي ) حضور صلی الم نے اللہ کے حضور یہ التجا کی کہ اے اللہ ! میری قوم کو بخش دے کیونکہ وہ لاعلمی کی وجہ سے 169