ربط ہے جانِ محمدؐ سے مری جاں کو مدام

by Other Authors

Page 168 of 426

ربط ہے جانِ محمدؐ سے مری جاں کو مدام — Page 168

مخالفت پر اکساتا رہا۔ربط ہے جان محمد سے مری جاں کو مدام (مسند احمد جزء 5 صفحہ 371) ایک دفعہ رسول اللہ صلی علی علی صفا کے پاس بیٹھے تھے کہ ابو جہل نے آکر آپ کو بہت گالیاں دیں اور ستایا اور دین کی مذمت کی۔لیکن آپ نے ایک لفظ اس سے نہ کہا۔(تاریخ طبری جزء 2 صفحہ 78) ایک روز ذوالحجاز کے میلے میں ہی آپ سرخ قبہ پہنے منادی توحید کر رہے تھے کہ ایک شخص نے آپ پر پتھر برسانے شروع کر دیے جس سے آپ کی پنڈلیاں اور ٹخنے لہولہان ہو گئے۔(سیرت الحلبیہ جزء 1 صفحہ 354) آپ کو اپنے اصحاب اور خاندان سمیت شعب ابی طالب میں محصور کر کے بنیادی حقوق تک سلب کرلیے گئے۔اسی دوران حضرت خدیجہ اور آپ کے مخلص چچا حضرت ابوطالب کی وفات ہوئی۔کفار مکہ کی ظلم و زیادتی کی انتہا پر ایک روز بے بس صحابہ نے آپ کی خدمت میں آکر عرض کیا کہ یارسول اللہ ! جب ہم مشرک تھے تو معززین میں شمار ہوتے تھے اور جب ہم ایمان لائے تو ہمیں ذلیل کیا گیا اس پر آپ صلی ایم نے انہیں صبر کی تلقین کرتے ہوئے فرمایا: إِنِّي أُمِرْتُ بِالْعَفُوفَلَا تُقَاتِلُوا کہ مجھے عفو کا حکم ہوا ہے۔اس لئے تم لڑائی سے بچو۔نہیں نہیں ایسا نہ کرو 10 نبوی میں آپ دعوت الی اللہ کی خاطر طائف گئے وہاں بنو ثقیف کے سرداروں نے آپ کی دعوت کو قبول نہ کیا اور آپ کے پیچھے بد تہذیب لڑکوں کو لگا دیا کہ وہ آپ کو طائف سے نکال دیں۔ان شریروں نے آپ پر آوازے کیسے اور گالیاں دیں جس پر لوگ اکٹھے ہو گئے اور آپ پر پتھر برسانے لگے۔آپ تھکاوٹ سے بیٹھتے تو وہ آپ کو زبر دستی کھڑا کر دیتے۔آپ کے ساتھی حضرت زید بن حارثہؓ نے آپ کو بچانے کی ہر ممکن کوشش کی اور سر پر پتھر لگنے سے زخمی بھی ہوئے۔اس پتھر اؤ کے نتیجے میں رسول للہ صلی علیم کی پنڈلیاں لہو لہان ہو گئیں اور خون بہ کر جوتوں میں جم گیا اور سخت تکلیف کا باعث بنا۔لیکن آپ نے یہاں بھی کمال صبر کا مظاہرہ کیا۔جب آپ قرن الثعالب پہنچے تو حضرت جبرئیل آپ کی 168