ربط ہے جانِ محمدؐ سے مری جاں کو مدام — Page 167
قسط 26 دشمنوں کی خیر خواہی اللہ تبارک تعالیٰ نے حضرت محمد مصطفی صلی علی ایم کو کل انسانیت کے لئے رحمت بنا کر بھیجا۔آپ صرف مومنوں یا مسلمانوں کے لئے نہیں بلکہ بلا تفریق مذہب و ملت رنگ و نسل“ زمان و مکان کل عالمین کے لئے رحمت ہیں۔آپ کی بعثت کے وقت عرب میں بات بات پر دشمنی عداوت“ رقابت اور انتقام کے سلسلے سالہا سال تک چلتے۔قتل کرنا اعضا کاٹنا کلیجہ چبانا کھوپڑی میں شراب پینا بہادری کی علامت سمجھا جاتا تھا ان وحشیوں کو انسان اور پھر خدا نما انسان بنانا کسی آرڈینینس، قانون یا سزا سے ممکن نہیں تھا۔آپ نے انتہائی محبت، حلم اور عفو و در گزر سے دشمنوں کو معاف کرنے کی ریت ڈال کر ان کے دل جیت لئے۔جس سے رفتہ رفتہ دشمنی اور انتقام کی آگ ٹھنڈی ہوتی گئی اور وہی معاشرہ امن و سلامتی کا معاشرہ بن گیا۔لیا ظلم کا عفو سے انتقام آپ کے نبوت کے دعوی کے ساتھ دشمنی کا آغاز ہو گیا تھا مگر آپ کو اپنے دشمنوں کو معاف کرنے کی تعلیم دی گئی تھی۔اسلام کے علاوہ کسی مذہب میں دشمن کو معاف کرنے کی تعلیم نہیں ملتی۔جبکہ اسلام کے مطابق جب تک دعا اور تربیت سے اصلاح کی توقع ہو در گزر سے کام لینا بہتر ہے۔دشمن اپنی تمام تر طاقت کے ساتھ ایذا رسانی کرتے مگر آپ اسلامی تعلیم کے مطابق ہر سختی برداشت کرتے اور ان کی ہدایت کی دعا کرتے۔آپ کے چچا ابو لہب اور اس کی بیوی ام جمیل آپ کے گھر کے آگے کانٹے بچھا دیتے تھے۔حکم ابن ابی العاص، عقبہ ابن ابی معیط بکری کی اوجھڑی یا بانڈی حالت نماز میں آپ پر ڈال دیتے آپ کے گھر پر پتھراؤ کرتے۔ابو جہل کی دشمنی کا یہ عالم تھا کہ آپ جہاں بھی اسلام کا پیغام پہنچانے کے لیے جاتے وہاں پہنچ جاتا اور لو گوں کو آپ کے خلاف بھڑ کاتا۔(مسند احمد جزء 3 صفحہ 492) ذوالمجاز کے میلے میں ایک دفعہ دعوت الی اللہ کے دوران ابو جہل آپ پر خاک اڑاتا اور لو گوں کو آپ کی 167