ربط ہے جانِ محمدؐ سے مری جاں کو مدام

by Other Authors

Page 151 of 426

ربط ہے جانِ محمدؐ سے مری جاں کو مدام — Page 151

طور پر آپ کے حق میں فیصلہ ہوا۔ربط ہے جان محمد سے مری جاں کو مدام نماز تہجد کا التزام پنجگانہ نماز تو خیر فرض ہی ہے جس کے بغیر کوئی شخص جو اسلام کا دعویٰ رکھتا ہو مسلمان نہیں رہ سکتا نفل نماز کے موقعوں کی بھی حضرت مسیح موعود کو تلاش رہتی جیسے ایک پیاسا انسان پانی کی تلاش کرتا ہے تہجد کی نماز جو نصف شب کے بعد اُٹھ کر ادا کی جاتی ہے اس کے متعلق حضرت مسیح موعود کا دستور تھا که با قاعدہ شروع وقت میں بیٹھ کر ادا فرماتے تھے اور اگر کبھی زیادہ بیماری کی حالت میں بستر سے اُٹھنے کی طاقت نہیں ہوتی تھی تو پھر بھی وقت پر جاگ کر بستر میں ہی اس مقدس عبادت کو بجا لاتے تھے۔تاریخ احمدیت جلد 2 صفحہ 583 نماز اشراق کے نوافل دو یا چار رکعت کبھی کبھی ادا فرماتے (سیرت المہدی جلد ایک صفحہ 3) جس دن آپ نے بٹالہ جانا ہوتا تو سفر سے پہلے آپ دو نفل پڑھ لیتے ( تاریخ احمدیت جلد ا اول صفحہ 76) 1894ء میں سورج گرہن کے وقت مسجد کی چھت پر نماز کسوف باجماعت ادا کی جس میں قریباً تین گھنٹے دعا جاری رہی۔آئینه صدق و صفا صفحه 48) ”نماز تہجد کی خلوت کے علاوہ دن کے وقت بھی عموماً ایک وقت بالکل علیحد گی میں گزارتے تھے۔آپ کی رہائش کے کمرے کے ساتھ چھوٹا سا کمرہ بیت الدعا کا ہے اسے اندر سے بند کر کے دو گھنٹہ کے قریب بالکل علیحد گی میں مصروفِ عبادت رہتے ایام سفر میں بھی آپ کے واسطے کوئی چھوٹا سا کمرہ خلوت کے واسطے بالکل الگ کر دیا جاتا۔(الفضل 3 جنوری 1931ء) نماز جنازہ خود حضور ہی پڑھاتے تھے۔حالانکہ عام نمازیں حضرت مولوی نورالدین صاحب یا مولوی عبدالکریم ساحب پڑھاتے تھے کئی دفعہ ایسا ہوتا کہ جمعہ کو جنازہ غائب ہونے لگا تو نماز تو مولوی صاحبان میں سے کسی نے پڑھائی اور سلام کے بعد حضرت مسیح موعود آگے بڑھ جاتے اور جنازہ پڑھا دیا کرتے تھے“ حضرت اماں جان سے روایت ہے کہ: (سیرت المہدی جلد 3 صفحہ 167 151