ربط ہے جانِ محمدؐ سے مری جاں کو مدام — Page 145
کے لئے پہنچے، اور حالت یہ تھی کہ کمزوری سے پاؤں زمین پر گھسٹتے جارہے تھے۔دنیا میں آپ کی آخری خوشی بھی نماز ہی تھی جس دن آپ کی وفات ہوئی ہے اس دن فجر کی نماز کے وقت اپنے حجرے کا پردہ اٹھا کر دیکھا تو صحابہ عبادت میں مشغول تھے۔اپنے غلاموں کو نماز میں دیکھ کر آپ کا دل خوشی سے بھر گیا اور چہرے پر مسکراہٹ چھا گئی۔(بخاری کتاب الاذان بحوالہ اسوہ کامل صفحہ 60) حضرت حذیفہ بن یمان فرماتے ہیں ایک رات رسول اللہ کے ساتھ نماز ادا کی جب نماز شروع کی تو آپ نے کہا اللهُ أَكْبَرُ وَالْمَلَكُوتِ وَالْجَبَرُوتِ وَالْكِبْرِيَاءِ وَالْعَظْمَةِ- یعنی اللہ بڑا ہے جو اقتدار اور سطوت کبریائی اور عظمت والا ہے۔پھر آپ نے سورۃ بقرہ مکمل پڑھی۔پھر رکوع فرمایا جو قیام کے برابر تھا۔پھر رکوع کے برابر کھڑے ہوئے۔پھر سجدہ کیا جو کہ قیام کے برابر تھا۔پھر دونوں سجدوں کے درمیان رَبِّ اغْفِرْ لِي ، رَبِّ اغفرلی اے میرے رب! مجھے بخش دے، اے میرے رب! مجھے بخش دے کہتے ہوئے اتنی دیر بیٹھے جتنی دیر سجدہ کیا تھا۔پھر دوسری رکعتوں میں آپ نے آل عمران، نساء، مائدہ، انعام وغیرہ طویل سورتیں پڑھیں۔(ابوداؤد کتاب الصلوۃ باب ما يقول الرجل في ركوعه و سجوده حدیث نمبر (869) حضرت عائشہ بیان کرتی ہیں کہ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم رات کو اتنی لمبی نماز ادا فرمایا کرتے تھے کہ آپ کے پاؤں متورم ہو کر پھٹ جاتے تھے۔ایک دفعہ میں نے آپ سے عرض کی اے اللہ کے رسول! آپ کیوں اتنی تکلیف اٹھاتے ہیں جبکہ اللہ تعالیٰ نے آپ کے اگلے پچھلے تمام قصور معاف فرما دیئے ہیں۔تو آپ نے فرمایا أَفَلَا أُحِبُّ أَنْ أَكُونَ عَبْدًا شَكُورًا۔کیا میں یہ نہ چاہوں کہ میں اللہ کا شکر گزار بندہ بنوں۔(بخاری کتاب التفسير سورة الفتح باب قوله ليغفر لك الله ما تقدم من ذنبك۔۔۔) پھر ام المومنین حضرت سودہ نے ایک رات نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز تہجد ادا کرنے کا ارادہ کیا اور حضور کے ساتھ جا کر نماز میں شامل ہو ئیں۔اپنی سادگی میں دن کے وقت انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے اس لمبی نماز پہ جو تبصرہ کیا اس سے حضور بہت محظوظ ہوئے۔کہنے لگیں یا رسول اللہ ! رات آپ نے اتنا لمبار کوع کروایا کہ مجھے تو لگتا تھا جیسے جھکے جھکے کہیں میری نکسیر نہ پھوٹ پڑے۔الاصابة في تمييز الصحابة حرف السين القسم الاوّل سودة بنت زمعة ) ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں کہ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم ایک رات میرے پاس 145