ربط ہے جانِ محمدؐ سے مری جاں کو مدام — Page 144
ربط ہے جان محمد سے مری جاں کو مدام ایک دفعہ حضرت عائشہ کے ہاں آپ کی باری تھی اور یہ باری نویں دن آتی تھی، موسم سرما کی رات تھی بستر پر لیٹ جانے کے بعد حضرت عائشہ سے فرماتے ہیں کہ عائشہ اگر اجازت دو تو آج رات میں اپنے رب کی عبادت میں گزار دوں۔وہ بخوشی اجازت دیتی ہیں اور آپ ساری رات عبادت میں روتے روتے سجدہ گاہ تر کر دیتے ہیں۔(انسان کامل صفحہ 69) پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم خود اپنی دلی خواہش کا ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ: اللہ نے ہر نبی کی ایک خواہش رکھی ہوتی ہے اور میری دلی خواہش رات کی عبادت ہے“ المعجم الكبير للطبرانى باب سعيد بن جبير عن ابن عباس) حضرت عائشہ سے رسول اللہ صلی علیم کی نماز یعنی تہجد کی نماز کی کیفیت پوچھی گئی تو فرمایا کہ: حضور صلی اللہ علیہ وسلم رمضان یا اس کے علاوہ دنوں میں گیارہ رکعتوں سے زیادہ نہ پڑھتے تھے مگر وہ اتنی لمبی اور پیاری اور حسین نماز ہوا کرتی تھی کہ اس نماز کی لمبائی اور حسن و خوبی کے متعلق مت پوچھو۔“ (بخاری کتاب التهجد باب قیام النبي بالليل في رمضان وغیرہ حدیث نمبر 1147) نماز آپ کی روح کی غذا تھی، اگرچہ امت کی سہولت کی خاطر آپ نے یہ بھی فرمایا ہے کہ جب کھانا لگ جائے تو پہلے کھانا کھا لو مگر اپنا یہ حال ہے کہ جب ایک دفعہ کھانا کھا رہے تھے تو حضرت بلال نے آواز دی کہ ”نماز کا وقت ہو گیا ہے“ اگلے ہی لمحہ آپ نے کھانا چھوڑ دیا اور سیدھے نماز کے لئے تشریف لے گئے۔(ابوداؤد کتاب الطهاره بحوالہ اسوہ انسان کامل صفحہ 57) غزوہ بدر میں ایک جنگ تو تیروں تلواروں سے ہو رہی تھی دوسری آپ کے اپنے خیمہ میں خدا کے حضور سر بسجود رو رو کر دعاؤں سے ہورہی تھی۔آپ اپنے خدا کو پکار رہے تھے کہ اے خدا اگر یہ عبادت گزار تباہ ہو گئے تو کون تیری عبادت کرے گا۔یہ دعا دراصل نماز اور نمازیوں کی حفاظت کے لئے ہی تھی یہ جنگ دعاؤں کے ذریعہ ہی جیتی گئی۔نماز سے ایسی محبت کا عالم تھا کہ جس بیماری سے آپ فوت ہوئے ہیں اس سے تھوڑا سا پہلے جب بیماری سے افاقہ ہوا تو اسی کمزوری کی حالت میں دو صحابہ کے کندھوں پر ہاتھ رکھ کر اور سہارا لیکر مسجد میں نماز 144