ربط ہے جانِ محمدؐ سے مری جاں کو مدام — Page 134
ربط ہے جانِ محمد سے مری جاں کو مدام آپ کی فصاحت و بلاغت کا ایک رخ آپ کی دعاؤں کے الفاظ میں بھی نظر آتا ہے۔ایسے دلگداز الفاظ ہیں کہ روح پگھل جاتی ہے۔وہ خاکساری عاجزی' بے خودی اور خود سپردگی ہے جو معبود کو لبھالیتی ہے طلب میں وہ جامعیت ہے کہ کوئی پہلو تشنہ نہیں رہتا۔اربعین از کلام حضور سید المرسلین صلی انتخاب کردہ حضرت ڈاکٹر میر محمد اسمعیل میں شامل ساری و احادیث دو یا تین الفاظ پر مشتمل ہیں۔اسی طرح حضرت مرزا بشیر احمد صاحب کا انتخاب چالیس جواہر پارے میں شامل احادیث بھی طویل نہیں ہیں مگر پر حکمت معانی کا ایک جہان ہیں۔ایک ایک کلمہ فصاحت بلاغت کی نادر مثال ہے۔آپ کے عکس حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کو بھی آسمان سے فصاحت و بلاغت کا نشان عطا فرمایا گیا تھا الہام ہوا: در کلام تو چیزی است که شعراء را در آن دخله نیست (تذکره صفحه 805) تیرے کلام میں ایک ایسی چیز ہے جس میں شاعروں کو دخل نہیں۔آپ کے کلام میں وہ کیا چیز تھی جس میں شاعروں کو دخل نہیں۔محاسن کلام کی تعیین لفظی اور معنوی حسن و جمال فن صنائع و بدائع کے خوب صورت برتاؤ سے ہوتی ہے۔یہ خوبیاں کم و بیش بہت سے شعرا میں مل جائیں گی۔کسی وصف نے آپ کو ایسا امتیاز بخشا۔کہ کوئی بھی دنیاوی کلام اس کا مقابلہ نہیں کر سکتا۔وہ ممتاز وصف یہ تھا کہ آپ فنا فی اللہ اور فنا فی الرسول تھے۔آپ کی زبان سے خدا بولتا تھا آپ کا قلم خدا کے ہاتھ میں تھا۔غیب سے مضامین اور الفاظ سوجھتے تھے اور ان میں جذب و اثر رکھا جاتا تھا۔پنجاب کے ایک دور افتادہ گاؤں میں پیدا ہونے والے نے کسی یونیورسٹی سے زبان و ادب نہیں سیکھا تھا۔شعر و سخن کے اساتذہ کرام کے آگے زانوئے تلمذ طے نہیں کیا تھا۔بلکہ طفل شیر خوار کی طرح اللہ پاک کی گود میں رہے تھے وہیں سے زبان سیکھی تھی قرآن مجید کا درس لیا تھا اور ڈوب کے پڑھا تھا۔آپ کو وہ صلاحیت عطا ہوئی تھی کہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی ا لی ایم کے کلام کو سمجھ کے اتنی ہی خوب صورتی کے ساتھ آگے سمجھا سکیں۔آپ اس زمانے کے مامور تھے مخاطب ساری دنیا تھی۔مقصد شعر و شاعری سے نہیں تھا آپ کو تو کسی ڈھب سے پیغام دینا تھا۔عربی فارسی اردو میں نظم نثر لکھتے رہے قلم کے جہاد کا حق ادا کیا۔134