ربط ہے جانِ محمدؐ سے مری جاں کو مدام — Page 131
فرماتے ہیں:۔خاتم النبیین کا لفظ جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر بولا گیا ہے بجائے خود چاہتا ہے اور بالطبع اسی لفظ میں یہ رکھا گیا ہے کہ وہ کتاب جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہوئی ہے وہ بھی خاتم الکتب ہو اور سارے کمالات اس میں موجود ہوں اور حقیقت میں وہ کمالات اس میں موجود ہیں۔کیونکہ کلام الہی کے نزول کا عام قاعدہ اور اصول یہ ہے کہ جس قدر قوت قدسی اور کمال باطنی اس شخص کا ہوتا ہے اس قدر قوت اور شوکت اس کلام کی ہوتی ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی قوت قدسی اور کمال باطنی چونکہ اعلیٰ سے اعلیٰ درجہ کا تھا جس سے بڑھ کر کسی انسان کا نہ کبھی ہوا اور نہ آئندہ ہو گا اس لئے قرآن شریف بھی تمام پہلی کتابوں اور صحائف سے اس اعلیٰ مقام اور مرتبہ پر واقع ہوا ہے جہاں تک کوئی دوسرا کلام نہیں پہنچا۔کیو نکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی استعداد اور قوت قدسی سب سے بڑھی ہوئی تھی اور تمام مقامات کمال آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر ختم ہو چکے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم انتہائی نقطہ پر پہنچے ہوئے تھے۔اس مقام پر قرآن شریف جو آپ پر نازل ہوا کمال کو پہنچا ہوا ہے اور جیسے نبوت کے کمالات آپ پر ختم ہو گئے اسی طرح پر اعجاز کلام کے کمالات قرآن شریف پر ختم ہو گئے۔آپ خاتم النبیین ٹھہرے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی کتاب خاتم الکتب ٹھہری۔جس قدر مراتب اور وجوہ اعجاز کلام کے ہو سکتے ہیں ان سب کے اعتبار سے آپ کی کتاب انتہائی نقطہ پر پہنچی ہوئی ہے۔یعنی کیا باعتبار فصاحت و بلاغت، کیا باعتبار ترتیب ،مضامین، کیا باعتبار تعلیم کیا باعتبار کمالات ،تعلیم کیا باعتبار ثمرات تعلیم۔غرض جس پہلو سے دیکھو! اسی پہلو سے قرآن شریف کا کمال نظر آتا ہے اور اس کا اعجاز ثابت ہوتا ہے اور یہی وجہ ہے کہ قرآن شریف نے کسی خاص امر کی نظیر نہیں مانگی بلکہ عام طور پر نظیر طلب کی ہے یعنی جس پہلو سے چاہو۔مقابلہ کرو خواہ بلحاظ فصاحت و بلاغت، خواه بلحاظ مطالب و مقاصد ، خواه بلحاظ تعلیم، خواہ بلحاظ پیشگوئیوں اور غیب کے جو قرآن شریف میں موجود ہیں۔غرض کسی رنگ میں دیکھو یہ معجزہ ہے۔“ (ملفوظات جلد 2 صفحہ 26 - 27 ایڈیشن 2003 ء حضرت مفتی محمد صادق نے حضرت اقدس کا ایک فرمان لکھا ہے: ھو گوں کی فصاحت و بلاغت الفاظ کے ماتحت ہوتی ہے اور اس میں سوائے قافیہ بندی کے اور کچھ نہیں ہوتا۔جیسے ایک عرب نے لکھا کہ سافرت الى روم وانا على جمل ماتوم میں روم کو روانہ ہوا اور میں ایک ایسے اونٹ پر سوار ہوا۔جس کا پیشاب بند تھا۔یہ الفاظ صرف قافیہ بندی کے واسطے لائے گئے ہیں یہ قرآن شریف کا اعجاز ہے۔کہ اس میں سارے ایسے موتی پرو دئے گئے ہیں اور اپنے اپنے مقام پر رکھے گئے ہیں کہ 131