ربط ہے جانِ محمدؐ سے مری جاں کو مدام — Page 130
ربط ہے جان محمد سے مری جاں کو مدام سحر حلال کو نظم کی شکل میں ڈھال لیا جائے تو اسی کا نام شاعری ہے جو بعض ادباء کے نزد یک فصاحت و بلاغت کا انتہائی مقام ہے۔در ثمین فارسی کے محاسن صفحہ 17) بلاغت تو یہ ہے کہ کلام وقت اور حال کے مطابق ہو انسان میں گونا گوں خیالات اور جذبات پائے جاتے ہیں کبھی غم و غصہ ہے اور کبھی مسرت و مہربانی۔ایک وقت بیتابی و بے قراری ہے تو دوسرے وقت راحت و سکون۔کبھی مستی و بے ہوشی ہے اور کبھی باخودی و ہشیاری۔پس جس حالت و کیفیت کا بیان ہو کلام اگر اس میں ڈوبا ہوا ہو کہ کہنے والا کہہ رہا ہے اور سننے والے کی آنکھوں کے سامنے اس کا نقشہ کھینچا جاتا ہے تفصیل کی جگہ وضاحت ہے اور اجمال کی جگہ اختصار تو وہ کلام بلیغ کہلائے گا۔(مقدمہ ہشت بہشت صفحہ 8 فصاحت و بلاغت کا سب سے بڑا شہکار قرآن کریم ہے جو رحمان خدا نے ہمارے سید و مولا حبیب خدا حضرت محمد مصطفی اصلی انم کو عطا فرمایا۔وَلَوْ جَعَلْنَهُ قُرَانًا أَعْجَمِيًّا تَقَالُوْا لَوْلَا فُقِلَتْ أَيْتُهُ وَ أَعْجَمِيٌّ وَعَرَبِيٌّ قُلْ هُوَلِلَّذِينَ آمَنُوا هُدًى وَشِفَاءُ ۚ وَالَّذِينَ لَا يُؤْمِنُوْنَ فِي أَذَانِهِمْ وَقُهُ وَهُوَ عَلَيْهِمْ عَلَى أُولَبِكَ يُنَادَوْنَ مِنْ مَّكَانٍ بَعِيْدِ ) (حم السجدة: 45) اور اگر ہم نے اسے انجمی (یعنی غیر فصیح قرآن بنایا ہوتا تو وہ ضرور کہتے کہ کیوں نہ اس کی آیات کھلی کھلی (یعنی قابل فہم) بنائی گئیں؟ کیا انجمی اور عربی (برابر ہو سکتے ہیں)؟ تُو کہہ دے کہ وہ تو ان لو گوں کے لئے جو ایمان لائے ہیں ہدایت اور شفا ہے اور وہ لوگ جو ایمان نہیں لاتے اُن کے کانوں میں بہر اپن ہے جس کے نتیجہ میں وہ ان پر مخفی ہے اور یہی وہ لوگ ہیں جنہیں ایک دُور کے مکان سے بلایا جاتا ہے۔قُلْ لَبِنِ اجْتَمَعَتِ الْإِنْسُ وَالْجِنُّ عَلَى أَنْ يَأْتُوا بِمِثْلِ هَذَا الْقُرْآنِ لَا يَأْتُونَ بِمِثْلِهِ وَلَوْ كَانَ بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ ظَهِيا الام (بنی اسرائیل: 89) تو کہہ دے کہ اگر جن و انس سب اکٹھے ہو جائیں کہ اس قرآن کی مثل لے آئیں تو وہ اس کی مثل نہیں لاسکیں گے خواہ ان میں سے بعض بعض کے مدد گار ہوں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام قرآن پاک کو خاتم الکتب فرماتے ہیں جو خاتم النبیین "پر نازل فرمایا گیا۔130