ربط ہے جانِ محمدؐ سے مری جاں کو مدام — Page 129
قسط 23 فصاحت بلاغت کا ایک الہی نشان حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: ”یہ ولایت کامل طور پر ظل نبوت ہے۔خدا نے نبوت آنحضرت صلی اللہ نام کے اثبات کے لئے پیشگوئیاں دکھلائیں سو اس جگہ بھی بہت سی پیشگوئیاں ظہور میں آئیں۔خدا نے دعاؤں کی قبولیت سے اپنے نبی علیہ السلام کی نبوت کا ثبوت دیا۔سو اس جگہ بھی بہت سی دعائیں قبول ہوئیں۔یہی نمونہ استجابت دعا کا جو لیکھرام میں ثابت ہوا غور سے سوچو!! ایسا ہی خدا نے اپنے نبی کو شق القمر کا معجزہ دیا سو اس جگہ بھی قمر اور شمس کے خسوف کسوف کا معجزہ عنایت ہوا۔ایسا ہی خدا نے اپنے نبی کو فصاحت بلاغت کا معجزہ دیا سو اس جگہ بھی فصاحت بلاغت کا اعجاز کے طور پر د کھلایا غرض فصاحت بلاغت کا ایک الہی نشان ہے اگر اس کو توڑ کر نہ دکھلاؤ تو جس دعویٰ کے لئے یہ نشان ہے وہ اس نشان اور دوسرے نشانوں سے ثابت اور تم پر خدا کی حجت قائم ہے 66 (حجۃ اللہ ، روحانی خزائن جلد 12 صفحہ 162 - 163) اس اقتباس میں موجود صداقت کا تیسرا نشان جو آنحضور صلی علی یم اور ان کے ظل کو عنایت ہوا فصاحت بلاغت کا الہی نشان ہے۔فصاحت و بلاغت کیا ہے؟ بات کو ایسے طریق پر بیان کرنا کہ کلام خوب صورت بھی ہو پُر اثر بھی اور آسانی سے سمجھ میں بھی آسکے ہر شخص بولنے کی صلاحیت سے کسی نہ کسی حد تک اپنے خیالات کا اظہار کر سکتا۔ہے اور جوں جوں فراست اور تجربہ بڑھتا جاتا ہے اپنے کلام کو مختلف طریق سے زیادہ مؤثر اور خوب صورت بناتا جاتا ہے مناسب الفاظ چن کر انہیں صحیح ترتیب دے کر۔مثالیں لا کر ( تشبیه و استعارہ وغیره) تزئین کلام کے دوسرے فنون (صنائع بدائع) استعمال کر کے اور ترقی کرتے کرتے بعض اشخاص ایسا کمال حاصل کر لیتے ہیں کہ پھر بغیر کوشش اور تردد کے ان کی زبان اور قلم سے فصیح و بلیغ کلام کا ہے۔یہاں تک کہ ان کا کلام حدیث قدسی ان من البيان لسحرا کے مطابق سحر حلال بن جاتا ہے۔اس نکلتا 129