ربط ہے جانِ محمدؐ سے مری جاں کو مدام

by Other Authors

Page 116 of 426

ربط ہے جانِ محمدؐ سے مری جاں کو مدام — Page 116

ربط ہے جان محمد سے مری جاں کو مدام حضرت انس کا ایک باغ تھا، اس دعا کے بعد سال میں دو دفعہ پھل دیتا تھا۔پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت انس کے لئے کثرت مال اور اولاد کی جو دعا مانگی تھی اس کے نتیجہ میں حضرت انس کی زندگی میں 80 کے قریب آپ کے بیٹے اور پوتے اور پوتیاں اور نواسے نواسیاں تھیں اور آپ نے 103 یا بعض روایتوں میں آتا ہے کہ 110 سال تک عمر پائی۔(1993- (اسد الغابۃ جلد اوّل زیر اسم انس بن مالك بن النضر صفحہ 178، مطبع دار الفکر بیروت ایک اور روایت میں آپ کی دشمن کے لئے بددعا اور اس کی قبولیت کا واقعہ یوں بیان ہوا ہے: حضرت عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کعبہ کے سائے میں نماز ادا کر رہے تھے کہ ابو جہل اور قریش کے چند لوگوں نے مشورہ کیا۔مکہ کے ایک کنارے پر اونٹ ذبح کئے گئے تھے، انہوں نے بھیجا اور وہ اونٹ کی اوجڑی اٹھا لائے اور اسے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اوپر لا کر رکھ دیا۔حضرت فاطمہ آئیں اور اسے آپ کے اوپر سے اٹھایا۔اس پر آپ نے فریاد کی اے اللہ ! تو قریش کو خود سنبھال، اے اللہ ! تو قریش کو خود سنبھال، اے اللہ ! تو قریش کو خود سنبھال۔راوی کہتے ہیں کہ یہ بددعا ابو جہل بن ہشام، عتبہ بن ربیعہ، شیبہ بن ربیعہ، ولید بن عتبہ، ابی بن خلف اور عقبہ بن ابو معیط وغیرہ کے متعلق تھی۔عبداللہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے ان سب کو بدر کے میدان میں مقتولین میں دیکھا۔(بخاری کتاب الجهاد و السير باب الدعاء على المشركين بالهزيمة والزلزلة حديث نمبر 2934) حضرت اقدس مسیح موعود نے اپنی قبولیت دعا کے لئے بطور نمونہ پنڈت لیکھرام والی پیش گوئی کا ذکر فرمایا ہے۔اس مضمون میں آپ کے ہزار ہا نشانات میں سے اسی نشان کا ذکر شامل ہے۔پنڈت لیکھرام صوابی ضلع پشاور میں ایک ہندو آریہ پولیس کے محکمہ میں ملازم تھا۔یہ شخص اسلام کا سخت دشمن تھا۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو گالیاں دیتا تھا۔اس کی زبان بہت گندی تھی۔اسلام کا دشمن تھا ہر وقت اعتراض کرتا تھا اور خدا تعالیٰ کو مکار کہا کرتا تھا۔1885ء میں قادیان آیا۔لیکن حضرت اقدس سے ملا نہیں بس فضول خط و کتابت کے ذریعہ ہی باتیں بناتا رہا۔چند روز قادیان ٹھہر کر واپس چلا گیا اور جاتے ہوئے حضرت اقدس کو ایک خط لکھا جس کے آخر پر لکھا: "اچھا آسمانی نشان تو دکھا دیں۔اگر بحث نہیں کرنا چاہتے تو رب العرش خیر الماکرین سے میری نسبت 116