ربط ہے جانِ محمدؐ سے مری جاں کو مدام — Page 10
جن میں عاشق صادق حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنے معشوق حقیقی سیدنا حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتداء میں بعض اعمال خود کیسے یا اللہ تعالیٰ نے محب اور محبوب کے تعلق کو مضبوط کرنے کے لیے کروائے۔دو صحاب خاکسار نے موصوفہ کی درخواست پر فوری حامی بھر لی کیونکہ یہ موضوع میرا پسندیدہ مضمون ہے اور سے ملا جب مجھ کو پایا“ کے تحت خاکسار نے صحابہ رسول اور محبین حضرت مسیح موعود کی مشابہتیں اور ملتے جلتے واقعات اکٹھے کرنے کا سلسلہ جاری کر رکھا ہے اور اس ضمن میں 8 قسطیں روزنامہ گلدستہ علم و ادب لندن اور روزنامہ الفضل آن لائن لندن میں طبع ہو چکی ہیں۔اس پلیٹ فارم سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنے پیارے قارئین سے یہ درخواست بھی کرنا چاہوں گا کہ آپ کے زیر مطالعہ یا زیر نظر کوئی واقعہ ایسا گزرے یا کسی دوست نے محفوظ کر رکھے ہوں تو اسے editor@alfazlonline۔org پر فی الفور بھجوا کر ممنون فرماویں۔ہر انسان کی کوئی نہ کوئی Hobby ہوتی ہے۔کسی نہ کسی مشغلہ کے ساتھ اس نے اپنے آپ کو جوڑا ہوتا ہے۔خاکسار کے مشاغل میں سے ایک یہ مشغلہ بھی ہے کہ انسان، مقامات اور اشیاء کے ناموں کو قرآن میں تلاش کر کے ان پر غور کر کے ان کے مطالب کو سمجھنا اور متعلقہ افراد یا اشیاء پر اچھے معنی میں لاگو کرنا ہے۔خاکسار جب امتہ الباری ناصر کے نام پر غور کرتا ہے تو اس کے معنی اور مطالب کو حقیقی معنوں میں موصوفہ پر لاگو پاتا ہے۔دوسرے معنوں میں آپ اسم با مسمی ہیں۔”باری“ اللہ تعالیٰ کی صفت ہے جس کے معنی پیدا کرنے والا، تخلیق دینے والا اور خالق کے ہیں۔امہ (میم پر زبر کے ساتھ) کے معانی لونڈی اور کنیز کے ہیں۔سو امۃ لباری کے معانی ہوئے خالق کی لونڈی۔اور تَخَلَّقُوا بِأَخْلَاقِ اللَّهِ کے تحت صفات باری تعالیٰ کو اپنے وجود میں اتارنے کا جو حکم ہے اس میں موصوفہ نے حضرت سلطان القلم کی معاون بن کر قلم کے ذریعہ جو تخلیق کی ہے ان میں دسیوں کتب اور سینکڑوں مضامین شامل ہیں۔موصوفہ کا زیر نظر 49 اقساط پر مشتمل مضمون قارئین کی طرف سے بہت پسند کیا گیا۔اسے سراہا گیا اور الفضل کی مقبول ترین کی کیٹیگری میں جگہ پاتا رہا۔امید ہے یہ علمی مجموعہ جماعتی کتب میں ایک مفید اضافہ ثابت ہو گا۔اس کی تیاری میں موصوفہ نے خود جو محنت کی اور جن کتب سے استفادہ کیا ان کے مصنفین اور جن کرداروں سے کمپوزنگ وغیرہ کروائی اور بعد ازاں الفضل کی ٹیم نے مختلف angles سے ان کو پر کھا، ان کی نوک پلک درست کی، ان کو قارئین کے لیے الفضل کی ٹرے میں سجایا اور آخری مرحلے پر 10