ربط ہے جانِ محمدؐ سے مری جاں کو مدام — Page 99
ربط ہے جان محمد سے مری جاں کو مدام کے حجرے میں چھوڑ دیا جائے لیکن بار بار یہی حکم ہوا کہ اس سے نکلو اور دین کا کام جو اس وقت سخت مصیبت کی حالت میں تھا اس کو سنوارو انبیاء کی طبیعت اس طرح واقع ہوئی ہے وہ شہرت کی خواہش نہیں کیا کرتے کسی نبی نے کبھی شہرت کی خواہش نہیں کی ہمارے نبی کریم صلی ال کی بھی خلوت اور تنہائی کو ہی پسند کرتے تھے آپ عبادت کے لئے لوگوں سے دور تنہائی کی غار میں جو غار حرا تھی چلے جاتے تھے یہ غار اس قدر خوفناک تھی کہ کوئی انسان وہاں جانے کی جرات نہ کر سکتا تھا لیکن آپ نے اس کو اس لئے پسند کیا ہوا تھا کہ وہاں کوئی ڈر کے مارے بھی نہ پہنچے گا۔آپ بالکل تنہائی چاہتے تھے شہرت کو ہر گز پسند نہیں کرتے تھے مگر خدا کا حکم ہوا يَأَيُّهَا الْمُدَّثِرُ قُمْ فَانْذِرُ اس حکم میں ایک جبر معلوم ہوتا ہے اور اسی لئے جبر سے حکم دیا گیا آپ تنہائی کو جو آپ کو بہت پسند تھی اب چھوڑ دیں“۔(ذکر حبیب از مفتی محمد صادق صفحہ 159 - 160) اگر خدا تعالیٰ مجھے اختیار دے کہ خلوت اور جلوت میں سے تو کس کو پسند کرتا ہے تو اس پاک ذات کی قسم ہے کہ میں خلوت کو اختیار کروں مجھے تو کشاں کشاں میدانِ عالم میں اس نے نکالا ہے جو لذت مجھے خلوت میں آتی ہے اس سے بجز خدا تعالیٰ کے کون واقف ہے میں قریب 25 سال تک خلوت میں بیٹھا رہا ہوں اور کبھی ایک لحظہ کے لئے بھی نہیں چاہا کہ دربار شہرت کی کرسی پر بیٹھوں مجھے طبعاً اس سے کراہت رہی ہے کہ لوگوں میں مل کر بیٹھوں مگر امر آمر سے مجبور ہوں۔فرمایا میں جو باہر بیٹھتا ہوں یا سیر کرنے جاتا ہوں اور لو گوں سے بات چیت کرتا ہوں یہ سب کچھ اللہ تعالی کے امر کی تعمیل کی بنا پر ہے“۔(سیرت مسیح موعود از عبد الکریم صفحہ 45) اخبار زمیندار کے ایڈیٹر مولوی ظفر علی خاں صاحب کے والد اور اخبار زمیندار کے بانی منشی سراج الدین احمد صاحب نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے بارے میں لکھا: ”ہم چشم دید شہادت سے کہہ سکتے ہیں کہ جوانی میں بھی نہایت صالح اور متقی بزرگ تھے۔کاروبار ملازمت کے بعد ان کا تمام وقت مطالعہ دینیات میں صرف ہوتا تھا۔عوام سے کم ملتے تھے۔1877ء میں ہمیں ایک شب قادیان میں آپ کے ہاں مہمانی کی عزت حاصل ہوئی۔ان دنوں میں بھی آپ عبادت اور وظائف میں اس قدر محو و مستغرق تھے کہ مہمانوں سے بھی بہت کم گفتگو کرتے تھے۔“ (اخبار زمیندار مئی 1908ء بحوالہ بدر 25 جون 1908ء صفحہ 13 کالم نمبر 1 - 2) 99