ربط ہے جانِ محمدؐ سے مری جاں کو مدام

by Other Authors

Page 85 of 426

ربط ہے جانِ محمدؐ سے مری جاں کو مدام — Page 85

تیری مدد کروں گا۔(بخاری کتاب بدء الوحي ) اس خبر پر آپ کا حیران ہونا آپ کی اپنے وطن سے شدید محبت پر دلیل ہے اور یہ کہ اپنے وطن سے جدائی کا تصور آپ کے لئے کتنا گراں تھا۔وہ بابرکت مقام جہاں اللہ تعالیٰ کا حرم ہے۔جو حضرت آدم کے زمانے سے بیت اللہ تھا۔جسے ابوالانبیا حضرت ابراہیم اور حضرت اسماعیل نے دعائیں پڑھتے ہوئے از سر نو تعمیر کیا جہاں آپ پیدا ہوئے اس محبوب مقام سے نکالے جانے کی خبر جھٹلائے جانے اور اذیت دئے جانے سے بھی گراں گزری۔جس کا بے ساختہ اظہار اس بے یقینی سے ہوا۔کیا وہ مجھے وطن سے نکال دیں گے؟ وطن سے بے لوث محبت کا اظہار اس وقت بھی ہوا جب آپ کو نبوت پر سر فراز ہوئے تیرہ سال ہو گئے تھے۔پیغام توحید پہنچانے میں کوئی کسر نہ چھوڑی تھی مگر قریش مکہ نے بھی مخالفت میں کوئی کسر نہ چھوڑی تھی مظالم کی انتہا ہو گئی تھی تنگ آ کر مسلمان خاموشی سے مدینہ کی طرف ہجرت کرنے لگے اکثر مسلمان جا چکے تو رسول الله صل اللیل کلام کو بھی ہجرت کی اجازت مل گئی رات کے وقت جبکہ کفار مکہ نے آپ کے گھر کا محاصرہ کیا ہوا تھا آپ سورہ فتح پڑھتے ہوئے اپنے گھر سے نکلے۔غار ثور میں مختصر قیام کے بعد اگلی منزل کے لئے روانہ ہونے لگے تو اونٹنی پر بیٹھے ہوئے بو جھل دل کے ساتھ مڑ کر اپنے مکہ مکرمہ کی طرف دیکھا اور حسرت سے اپنی بستی کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا: مَا أَطْيَبَكِ مِنْ بَلَدٍ وَأَحَبَّكِ إِلَى، وَلَوْلَا أَنَّ قَوْمِي أَخْرَجُوْنِ مِنْكِ مَا سَكَنْتُ غَيْرَكِ (سنن الترمذی، 5: 723، رقم: 3926، صحیح ابن حبان، 23:9، رقم: 3709، المعجم الكبير للطبرانی، 270:10، رقم: 10633) تو کتنا پاکیزہ شہر ہے اور مجھے کتنا محبوب ہے! اگر میری قوم تجھ سے نکلنے پر مجھے مجبور نہ کرتی تو میں تیرے سوا کہیں اور سکونت اختیار نہ کرتا۔حضرت عبداللہ بن عدی کی روایت ہے آپ نے فرمایا ” تو اللہ کی بہترین سر زمین ہے اور اللہ کی سب سے پسندیدہ زمین ہے اگر میں زبر دستی تجھ سے نہ نکالا جاتا تو کبھی یہاں سے نہ نکلتا۔“ (مستدرك كتاب المناقب ، مناقب عبدللہ بن عدی حدیث نمبر 5827) حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اپنے آبائی وطن مکہ کی طرح مدینہ منورہ بھی بہت عزیز تھا۔85