ربط ہے جانِ محمدؐ سے مری جاں کو مدام

by Other Authors

Page 416 of 426

ربط ہے جانِ محمدؐ سے مری جاں کو مدام — Page 416

اپنے انعامات کئے ہیں۔(ترجمه از آئینه و کمالات اسلام، روحانی خزائن جلد 5 صفحہ 483) صاحبزادہ مرزا بشیر احمد رضی اللہ عنہ سیرت المہدی میں ایک اور مماثلت تحریر فرماتے ہیں: ”حدیث شریف میں آتا ہے کہ مرض موت میں آنحضرت صلی علیم بھی سخت کرب تھا اور نہایت درجہ بے چینی اور گھبراہٹ اور تکلیف کی حالت تھی اور ہم نے دیکھا ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا بھی بوقت وفات قریباً ایسا ہی حال تھا۔یہ بات ناواقف لوگوں کے لئے موجب تعجب ہو گی کیونکہ دوسری طرف سنتے اور دیکھتے ہیں کہ صوفیا اور اولیاء کی وفات نہایت اطمینان اور سکون کی حالت میں ہوتی ہے۔سو وہ یہ در اصل بات یہ ہے کہ نبی جب فوت ہونے لگتا ہے تو اپنی امت کے متعلق اپنی تمام ذمہ داریاں اس کے سامنے ہو تی ہیں اور ان کے مستقبل کا فکر مزید برآں اسکے دامن گیر ہو تا ہے۔تمام دنیا سے بڑھ کر اس بات کو نبی جانتا اور سمجھتا ہے کہ موت ایک دروازہ ہے جس سے گزر کر انسان نے خدا کے سامنے کھڑا ہونا ہے پس موت کی آمد جہاں اس لحاظ سے اس کو مسرور کرتی ہے کہ وصال محبوب کا وقت قریب آن پہنچا ہے وہاں اس کی عظیم الشان ذمہ داریوں کا احساس اور اپنی امت کے متعلق آئندہ کا فکر اسے غیر معمولی کرب میں مبتلا کر دیتے ہیں مگر صوفیا اور اولیاء ان فکروں سے آزاد ہو تے ہیں۔ان پر صرف ان کے نفس کا بار ہوتا ہے مگر نبیوں پر ہزاروں لاکھوں کروڑوں انسانوں کا بار۔پس فرق ظاہر ہے“ (سیرت المہدی حصہ اول صفحہ 11 - 12) ڈاکٹر بشارت احمد صاحب (غیر مبائع) اپنی مشہور تصنیف مجد اعظم جلد دوم میں لکھتے ہیں۔گرمی کا موسم تھا۔حضرت اقدس بمعہ بیوی صاحبہ کے عموماً شام کو فٹن یا بند گاڑی میں بیٹھ کر سیر کو جایا کرتے تھے۔25 مئی 1908ء کی شام کو بھی تشریف لے گئے مگر چہرہ اداس تھا۔کسی نے عرض کیا کہ حضور آج اداس نظر آتے ہیں۔فرمانے لگے ”ہاں میری حالت اُس ماں کی طرح ہے جس کا بچہ ابھی چھوٹا ہو اور اپنے تئیں سنبھال نہ سکتا ہو اور وہ اُسے چھوڑ کر رخصت ہو رہی ہو۔“ اے خدا بر تربت او بارشِ رحمت با ببار داخلش کن از کمال فضل در بیت النعیم (الفضل 26 مئی 2020ء) روزنامه الفضل آن لائن لندن 27 جنوری 2023ء) 416