ربط ہے جانِ محمدؐ سے مری جاں کو مدام

by Other Authors

Page 396 of 426

ربط ہے جانِ محمدؐ سے مری جاں کو مدام — Page 396

ربط ہے جانِ محمد سے مری جاں کو مدام مجھ سے اُس دل ستاں کا حال سنیں صورت وہ و جمال سنیں (براہین احمدیہ حصہ سوم صفحہ 268 مطبوعہ 1882ء) آپ علیہ السلام کی مبارک حیات میں آپ علیہ السلام کی نرمی ، رفق، ضبط و تحمل اور سہار کے ان گنت واقعات ہیں جو جہاں تک آپ علیہ السلام کے روابط کی وسعتیں ہیں دیکھے جاسکتے ہیں۔ایک اخبار کی دریدہ دہنی پر نالش کرنے کا مشورہ ملا تو جواب دیا ”ہمارے لئے خدا کی عدالت کافی ہے، یہ گناہ میں داخل ہو گا اگر ہم خدا کی تجویز پر تقدم کریں۔اس لئے ضروری ہے کہ صبر اور برداشت سے کام لیں۔“ (سیرت حضرت مسیح موعود از شیخ یعقوب علی عرفانی صفحہ 114) 2۔ایک دفعہ ایک ہندوستانی مولوی نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے تلفظ پر اعتراض کیا اس وقت حضرت مولوی عبد اللطیف صاحب شہید رضی اللہ عنہ بھی مجلس میں حضرت صاحب کے پاس بیٹھے تھے ان کو بہت غصہ آ گیا انہوں نے اسی جوش میں اس مولوی کے ساتھ فارسی میں گفتگو شروع کر دی۔آپ علیہ السلام نے ان کو سمجھا بجھا کر ٹھنڈا کیا۔بعد میں کسی وقت فرمایا: ”اس وقت مولوی صاحب کو بہت غصہ آگیا تھا چنانچہ میں نے اسی ڈر سے کہ کہیں وہ اس غصہ میں اس مولوی کو کچھ مار ہی نہ بیٹھیں مولوی صاحب کے ہاتھ کو اپنے ہاتھ میں دبائے رکھا تھا۔“ (روایت نمبر 336 سیرت المہدی حصہ اول صفحہ 337) 3۔حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کے چچا زاد بھائیوں نے مسجد مبارک کے راستہ میں دیوار کھینچ کر آپ علیہ السلام اور آپ کی جماعت کو شدید تکلیف پہنچائی تھیں۔جب آپ علیہ السلام ان سے انتقام کی پوزیشن میں تھے تو فرمایا: ہم کو دنیا داروں کی طرح مقدمہ بازی اور تکلیف دہی سے کچھ کام نہیں، خدا تعالیٰ نے مجھے اس غرض کے لئے دنیا میں نہیں بھیجا۔“ حضور علیہ السلام نے نہ صرف مرزا صاحب کو دل سے معاف کیا بلکہ اُن کی درخواست پر زمین کا ایک ٹکڑا بھی انہیں عنایت فرما دیا۔396